چائے کا عالمی دن، چائے سے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

چائے کے خوشگوار اثرات
(فوٹو: ڈیسکٹاپ بیک گراؤنڈ)

آج دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جارہا ہے جبکہ مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں چائے کے علاوہ دیگر مشروبات بھی نوش کیے جاتے ہیں جن میں کافی، سافٹ ڈرنکس اور دودھ کے علاوہ دیگر مشروبات شامل ہیں، تاہم چائے جیسی اہمیت کسی مشروب کو نہ مل سکی۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کھانا کھائے بغیر انسان تقریباً ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے، تاہم پانی کے بغیر  کوئی انسان 3 دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ سب سے زیادہ انسان جو چیز پیتا ہے، وہ کوئی مشروب نہیں، بلکہ پانی ہے لیکن اگر پانی کے بعد سب سے زیادہ کوئی چیز پی جاتی ہے تو اسے چائے ہی کہا جاسکتا ہے۔

تاریخ

اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو چائے کی پتی اور دودھ کو ملا کر بنائی جانے والی چائے دودھ کے بغیر بھی متعدد ممالک میں شوق سے پی جاتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق چائے سب سے پہلے شمال مشرقی بھارت، شمالی میانمار اور جنوب مغربی چین سے شروع ہوئی۔
اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ انسان کب سے چائے پی رہے ہیں تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق چین میں 5 ہزار سال قبل چائے کو بطور مشروب استعمال کیے جانے کے ناقابلِ تردید آثار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نے چائے تک رسائی ہزاروں سال قبل حاصل کی۔

صنعتی اہمیت

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک میں چائے بنانا اور پلانا ایک اہم صنعت کا درجہ اختیار کر گیا ہے جس پر لاکھوں خاندان انحصار کرتے ہیں۔ بہت سے غریب خاندان امیر لوگوں کو چائے پلا کر خاطر خواہ آمدنی حاصل کرتے ہیں جن کی رہائش غریب اور پسماندہ ممالک میں ہوا کرتی ہے۔
عالمی سطح پر چائے کی صنعت بہت سے غریب ممالک کیلئے زرِ مبادلہ کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ ایسے ممالک چائے کے پودے سے حاصل ہونے والی پتی کو برآمد کرکے کروڑوں کماتے ہیں۔بہت سے پسماندہ علاقوں میں چائے خانے کھولنےکا کام ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ پھل پھول رہا ہے۔

صحت پر اثرات

اقوامِ متحدہ کے ادارے عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چائے اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور بہت سے معاشرے چائے کو اپنی ثقافتی اقدار کا اہم جزو مانتے ہیں۔ گھر پر جو بھی مہمان آئے اسے چائے ضرور پیش کی جاتی ہے جس کے خود مہمان بھی منتظر رہتے اور چائے کو پسند کرتے ہیں۔
آج کل گرمی ہے لیکن اگر آپ شدید سردی سے پریشان ہوں یا دن بھر کی تھکان، چائے کے 2 گھونٹ آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے اکثر کافی ہوتے ہیں۔ لوگ تھکاوٹ کم کرنے اور ذہن کو ہشاش بشاش رکھنے کے لیے بھی چائے کا استعمال کرتے ہیں جو ایک اہم چیز ہے۔
طبی فوائد کا جائزہ لیا جائے تو آنکھوں کے بڑے امراض (مثلاً نابینا اور کالے موتیا یعنی گلوکوما) سے بچاؤ چائے پینے والوں کیلئے اہم ہے ، تاہم بعض ماہرین کے مطابق چائے میں نکوٹین موجود ہوتی ہے جو انسانی دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

عالمی دن

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چند سال قبل دنیا بھر میں چائے کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور پسماندہ ممالک کی طرف سے چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے مطالبات دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہر سال 21 مئی کو چائے کا عالمی دن منایا جائے، جس کے بعد مختلف ممالک نے اس کی تقلید شروع کردی۔

عالمی سطح پر چائے دن منانے کا مقصد بھوک اور غربت سے لڑنے کیلئے پسماندہ ممالک میں فروغ پاتی ہوئی چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقوامِ عالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے تحت ہر سال مختلف تقاریب کے ذریعے عوام کو آگہی دی جاتی اور ان کا شعور اجاگر کیاجاتا ہے۔

Related Posts