پراکسی کہنے سے میری ساکھ مجروح ہوئی، فیصل واؤڈا کی عدلیہ پرکڑی تنقید

تازہ ترین

تازہ ترین

فیصل واؤڈا
(فوٹو: بزنس ریکارڈر)

اسلام آباد: سینیٹر فیصل واؤڈا نے عدلیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پراکسی کہنے سے میری ساکھ مجروح ہوئی، میں کسی کی تذلیل نہیں کی، نہ کسی کو پوائنٹ آؤٹ کیا تھا۔

منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا کہ میں اپنی تقریر کے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں۔ آئین اور قانون ججز کے مس کنڈکٹ پر بات کرنے کا حق دیتا ہے، ایگزیکٹو کی ساکھ پر سوالات اٹھیں گے تو ہم سب ساتھ دیں گے۔

گفتگو کے دوران سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا کہ توہینِ عدالت جن پر لگنی چاہئے تھی، نہیں لگی۔ ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دینے والے جج اور آمر کو علامتی سزا تو دے دیتے۔ نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کرکے کہا گیا کہ غلطی ہوگئی۔

سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا کہ لوگوں کے نام لے لے کر گالیاں دینے والی جماعت کو توہینِ عدالت کا نوٹس نہیں بھیجا جاتا، جسٹس منصور علی شاہ نے خود احتسابی کا کہا تو ہم نے لبیک کیا۔ شواہد سامنے آنے کے بعد عدالت ایکشن کیوں نہیں لے سکی؟

فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ آپ سے سوال کریں تو توہین اور آپ غلطی کردیں تو مسٹیک، غریب کو ایک روپے کی روٹی ملنے پر اسٹے آرڈر دے دیا جاتا ہے۔ بائیک دینے کی بات کرنے پر کہتے ہیں کہ خواتین کو چھیڑیں گے۔ میرے لیے بھی وہی قانون ہے جو جج کیلئے ہوتا ہے۔

Related Posts