کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کے الیکٹرک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرمی سے ہلاکت پر کے الیکٹرک کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہئے۔ کے الیکٹرک نے کراچی میں اجتماعی سزا کا نظام نافذ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق منگل کے روز سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو کی جانب سے حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کے خلاف پیش کردہ قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ کسی مہذب معاشرے میں اجتماعی سزاؤں کا نظام نہیں لیکن بدقسمتی سے کے الیکٹرک نے کراچی میں اجتماعی سزائوں کا نظام رائج کردیا ہے۔
سندھ اسمبلی سے خطاب کے دوران سعید غنی نے کہا کہ یہاں جو بل ادا کرتے ہیں وہ بھی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں، چند لوگ بجلی چوری کرتے ہیں تو پورے علاقے کو سزا دی جاتی ہے۔ کراچی میں بارہ گھنٹے اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے۔ کے الیکٹرک ظلم، جبر اور زیادتیاں کررہا ہے۔ کے الیکٹرک کو انسانی مسئلہ سمجھ کر دیکھنا چاہئے۔
خطاب کے دوران سعید غنی نے کہا کہ یہاں امتحانات چل رہے ہیں۔ اکثر امتحانی سینٹرز میں بجلی نہیں ہے۔ ایسی گرمی میں بغیر بجلی کے بیٹھنے والا بچہ کیا نتیجہ دے گا۔ بجلی 12 گھنٹے بند رہتی ہے تو پانی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر جاتا ہے۔گرمی کی وجہ سے اگر کوئی شخص انتقال کرتا ہے تو اس کی ایف آئی آر کے الیکٹرک کے خلاف درج ہونی چاہئے۔
وزیر بلدیات سندھ نے کے الیکٹرک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحثیت عوام میں سمجھتا ہوں کہ کے الیکٹرک کے دفتروں میں گھس کر ان کی بجلی بند کرکے ان کو 10 گھنٹے گرمی میں بغیر بجلی کے بٹھائیں تاکہ ان کو احساس ہو کہ عوام کس طرح اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں اور فلیٹس میں 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ بجلی چوری کو جواز بنا کر لوڈشیڈنگ کرنے والی کے الیکٹرک کا عملہ شہر میں کنڈے لگانے میں ملوث ہوتا ہے اور وہ اسی کو جواز بنا کر لوڈشیڈنگ بھی کرتے ہیں۔ کئی علاقوں میں کے الیکٹرک والے پی ایم ٹی لے کر جاتے ہیں اور چار چار پانچ پانچ دن بجلی بند رہتی ہے۔ چھوٹے گھروں میں رہنے والے لوگ احتجاج نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟
سعید غنی نے کہا کہ ظلم تو یہ ہے کہ عوام سڑکوں پر کے الیکٹرک کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتی ہے اور ایف آئی آر ریاست کی بجائے کے الیکٹرک کرواتی ہے۔ کے الیکٹرک نے غنڈہ گردی اور بدمعاشی مچا رکھی ہے۔ کے الیکٹرک کے مسئلے پر سندھ حکومت کردار ادا کرے گی اور اس حوالے سے وفاق کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








