جنگ بندی کی راہ ہموار، اسرائیل امریکی تجویز مان گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو الجزیرہ

اسرائیل کی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے پیش کردہ نئی تجاویز کی منظوری دے دی، جس کے بعد غزہ میں 8 ماہ سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے اور انہیں اب حماس کے ردعمل کا انتظار ہے۔

تاہم اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگی مقاصد پورے ہونے، مغویوں کی رہائی اور حماس کی تباہی تک مستقل جنگ بندی کے لیے رضامند نہیں ہوں گے۔

دوسری طرف امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ  اگر حماس امریکی تجاویز پر رضامند ہو جائے تو اسرائیل بھی مان جائے گا۔

جان کربی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے تجویز کیے گئے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ امریکا کی دی گئی تجاویز اسرائیلی تجاویز تھیں، حماس مان جائے تو اسرائیل بھی ہاں کہہ دے گا۔

خیال رہے کہ صدر بائیڈن کے تین مراحل پر مشتمل مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتے کی جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، امداد کی فراہمی، دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کی بات چیت اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔

Related Posts