امریکی ماہر صحت کا کورونا کے دوران ساری دنیا کو بے وقوف بنانے کا اعتراف

تازہ ترین

تازہ ترین

ساری دنیا کو بے وقوف
(فوٹو: سی این بی سی)

واشنگٹن: امریکی ماہر صحت اینتھونی فوکی نے درجنوں ممالک میں پھیلنے اور تباہی مچانے والی کورونا وبا کے دوران ساری دنیا کو بے وقوف بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے اقدامات سائنسی نہیں بلکہ صرف ایک اختراع تھے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران امریکا میں نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے متعدی امراض کے ڈائریکٹر اینتھونی فوکی نے رواں سال کے آغاز میں امریکی کانگریس کے سامنے گواہی دی کہ میں نے سائنسی بنیادوں کے بغیر امریکیوں کو کورونا سے بچانے کیلئے 6فٹ کے سماجی فاصلاتی اصول دئیے۔

کانگریس کو گواہی دینے کے بعد ری پبلکن پارٹی کے نمائندے اینتھونی فوکی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لگائی گئی پابندیوں پر دوبارہ پوچھ گچھ کا ارادہ رکھتے ہیں جن کا وہ اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کیلئے زیادہ اقدامات نہیں اٹھائے بلکہ 6فٹ کے فاصلے کا اصول نیلے رنگ سے نکلا ہے۔

وضاحت طلب کرنے پر اینتھونی فوکی نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ اس کی سائنسی بنیادیں کیا ہیں اور اسے کس مطالعے سے اخذ کیا یگا، میں ایسے مطالعات سے آگاہ نہیں تھا جو معاشری فاصلے کی حمایت کرتے ہوں اور  مجھے اس کا بھی کوئی مطالعہ یاد نہیں  کہ بچے کے ماسک پہننے یا سکول سے غیر حاضر رہنے سے کورونا سے بچا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے بار بار ہاتھ دھونا، ماسک پہننا اور 3 سے 6فٹ تک سماجی فاصلہ قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا جس کی دنیا بھر کے ماہرین صحت نے حمایت کی۔ امریکی ماہر صحت اینتھونی فوکی کے تمام تر احتیاطوں کو اختراع قرار دینے سے دنیا بھر کے ماہرینِ صحت سے عوامی اعتماد اٹھ جانے کا خدشہ ہے۔

Related Posts