چینی مشن چینگ ای 6 چاند کے تاریک حصے قطب جنوبی سے نمونے اکٹھے کرکے زمین کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے پہلی بار چاند کے اس پراسرار خطے سے نمونے اکٹھے کرکے زمین پر لائے جا رہے ہیں جو چین کے خلائی پروگرام کی بہت بڑی پیشرفت ہے۔چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے بیان جاری کردیا۔
چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چینگ ای 6 مشن کے لینڈر نے چاند کی سطح سے پرواز کرکے چاند کے مدار میں موجود آربٹر سے منسلک ہونے میں کامیابی حاصل کی۔چین کا چینگ ای 6 مشن وہ پہلا خلائی مشن بن گیا جس نے تاریک حصے سے ٹیک آف کیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ چینی قومی خلائی ایڈمنسٹریشن کے بیان میں کہا گیا کہ چاند کے اس خطے کے نمونوں کے تجزیے سے سائنسدانوں کو چاند کی ارتقائی تاریخ اور اس کے تشکیل پانے کے عمل کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے اور نتائج اخذ کرنے میں مدد ملے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیان کے مطابق ان نمونوں سے نظام شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی اور اس کے مطابق مستقبل کے مشنز کی بنیاد بھی رکھی جائے گی۔چینگ ای 6 کے لینڈر نے 2 جون کو چاند کے قطب جنوبی کے شمال مشرقی خطے میں واقع پول ایٹکن پر لینڈنگ کی۔
چاند کے قطب جنوبی کی سطح سے نمونے اکٹھے کرکے لینڈر نے چین کے پرچم کو چاند کے اس تاریک حصے میں لہرایا۔خیال رہے کہ چاند کے اس حصے کو تاریک اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہاں روشنی نہیں، بلکہ اس کے بارے میں تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے اسے تاریک یا خفیہ کا نام دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے ہمسایہ ملک چین کے چینگ ای 6 کا زمین واپسی کا سفر 5 دن میں مکمل ہوگا اور وہ شمالی چین پر لینڈ کرے گا۔چینگ ای 6 کے بعد چین کی جانب سے چینگ ای 7 روبوٹیک مشن کو چاند کے قطب جنوبی میں بھیجا جائے گا جوچاند پر برف کے آثار دریافت کرنے کا کام کرے گا۔
چینگ ای 7 روبوٹک مشن کی مدد سے چین چاند کے ماحول اور موسم کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ اس کے بعد آخری چینگ ای 8 مشن چاند پر ممکنہ طور پر ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کی غرض سے بھیجا جائے گا جبکہ چین 2030 میں چاند پر انسانوں کو لے جانا چاہتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








