قومی کرکٹ ٹیم کے پٹھان کھلاڑیوں کے متعلق متعصبانہ گفتگو سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد کو مہنگی پڑ گئی، بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد اعجاز احمد نے معافی مانگ لی۔
گزشتہ روز نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اعجاز احمد نے کہا تھا کہ اگر آپ غور کریں تو کرکٹ 80 فیصد ریموٹ ایریاز یا خیبرپختونخوا منتقل ہوچکی ہے، اگر سندھ کی ٹیم بھی بنائیں تو 6-8 کھلاڑی پٹھان ہوتے ہیں، ان کے پاس تعلیم ہے اور نہ ہی اتنا ایکسپوژرہے، وہ صبح نماز پڑھنے جاتے ہیں اور شام کو گھر آجاتے ہیں، جب ان پر (دوران میچ) پریشر پڑتا ہے تو (برداشت) نہیں کرپاتے۔
اعجاز احمد کی جانب سے اس غیر ذمہ دارانہ اور متعصبانہ گفتگو پر انہیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں نجی چینل کے مالک سلمان اقبال نے بھی اعجاز احمد کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پختون قوم کی دل سے عزت اور قدر کرتے ہیں، اعجاز کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر جنید خان نے بھی اعجاز سے غیر ذمہ دارانہ بیان پر پوری پشتون کمیونٹی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد اعجاز احمد نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اس پر معافی مانگ لی۔ اعجاز احمد کا اپنے ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ نیت نہیں تھی، کسی کی دلآزاری ہوئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں زندگی میں کبھی تعصب کی بات نہیں کی۔ شاید میں اپنا مدعا درست انداز میں بیان نہیں کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے کئی پشتون کرکٹرز کے ساتھ کام کیا ہے، میرا مقصد کچھ اور تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








