لاہور: عدالت نے خواتین کے شناختی کارڈ پر والد کے نام کیلئے قواعد میں ترمیم کا حکم دے دیا ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق خواتین کے شناختی کارڈ پر والد کے نام کیلئے قواعد میں ترمیم کا حکم لاہور ہائیکورٹ نے دیا۔ عدالت نے محکمہ امیگریشن اور پاسپورٹ کو ہدایات جاری کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت دی کہ محکمہ امیگریشن اور پاسپورٹ خواتین کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر اپنے والد کا نام رکھنے کی اجازت دینے والے قوانین پر 3 ماہ میں ترمیم مکمل کرے۔
ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست گزار مہر بانو لنگڑیال کی جانب سے دائر درخواست پر یہ حکم دیا۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ شادی شدہ خاتون کو اپنی شناختی دستاویزات پر والد کا نام رکھنے کا حق ہونا چاہئے۔
کس کا نام ہونا چاہئے؟
معاشرتی اقدار کے لحاظ سے پاکستان میں جب بھی کوئی خاتون شادی کرتی ہے تو وہ اپنے شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ لگانا پسند کرتی ہے جبکہ بچوں کے نام کے ساتھ والد کا نام لاسٹ نیم کے طور پر لگادیا جاتا ہے۔
بعض خواتین اپنے والد سے شوہر کے مقابلے میں جذباتی طور پر زیادہ قریب ہوتی ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ والد کا نام شادی کے بعد بھی ان کی ذات سے منسلک رہے، جس کی مخالفت کی کوئی قانونی وجہ نہیں ہے۔
دراصل کسی بھی مرد یا خاتون کانام اس کی شناخت کا ایک اہم ترین حصہ ہوتا ہے جس پر سب سے پہلا حق اس کے والدین کا ہوتا ہے جو پیدا ہونے پر اس کانام رکھتے ہیں لیکن باشعور ہونے پر یہ حق خود اس مرد یا خاتون کا ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے کیا شناخت پسند کرتا یا کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








