بچوں سے جبری مشقت کے خلاف بین الاقوامی دن آج منایا جارہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں سے جبری مشقت اور کمسن، معصوم بچوں سے محنت مزدوری کے خلاف عالمی دن آج منایا جارہا ہے جس کا مقصد بچوں کو کم عمری میں محنت و مشقت سے بچانا ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ہرسال چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منانے کا مقصد کمسن بچوں کو مشقت کی اذیتوں سے نجات دلا کر انہیں اسکول کا راستہ دکھانا اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے عوام میں عمومی شعور کو فروغ دینا ہے۔بچے تعلیم حاصل کرکے ہی معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں سے جبری مشقت لینے کے عالمی دن کے موقعے پر بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی انجمنوں، تعلیمی اداروں، میڈیا، خواتین کی اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، مذاکرے، واکس اور تقریبات کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا تاکہ بچوں کے مسائل پر شعور و آگہی کو فروغ دیا جاسکے۔

آج پاکستان میں بھی سیمینارز، بحث مباحثوں اور واکس میں ماہرین چائلڈ لیبر سے پیدا  صورتحال کے متعلق گفتگو کریں گے اور عوام میں بچوں سے مزدوری کے خلاف شعور اجاگر کیا جائے گا۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں سے محنت مزدوری ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اور بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے ۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن کی بنیاد  2002میں رکھی، جس کے بعد سے آج تک اقوامِ متحدہ کے تحت چائلڈ لیبر کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ کمسن بچوں سے محنت مزدوری کروانے والے والدین بھی بسا اوقات مجبور ہوتے ہیں، تاہم حکومت انہیں سہولیات دے کر بچوں کو محنت مزدوری سے بچا سکتی ہے۔

گزشتہ برس تک کے اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان میں 14 ہزار، سندھ میں 2 لاکھ 98 ہزار اور پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 10لاکھ بچے محنت و مشقت کرتے ہیں۔بہت سے غریب گھرانوں کے بچے تعلیم اور مناسب خوراک حاصل نہیں کرسکتے اور بھوک اور فاقہ کشی کی حالت میں بھی سخت مجبوری پر مجبور ہوجاتے ہیں جس سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

Related Posts