نئی دہلی: بھارت کی متنازعہ ریاست اروناچل پردیش میں چین متحرک ہے جس کے جواب میں بھارت کی نریندر مودی حکومت نے تبت کے 30 مقامات کے نام بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ میری توجہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعے کو حل کرنے پر ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نریندر مودی حکومت نے تبت میں 30 مقامات کے نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی جو تاریخی تحقیق اور تبتی علاقے کی بنیاد پر ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تمام تر نام بھارتی فوج کی جانب سے جاری کیے جائیں گے اور لائن آف ایکچؤل کنٹرول کے نقشے پر اپ ڈیٹ ہوں گے۔ چین نے اپریل میں اروناچل پردیش کے 30 مقامات کے نام بدل دئیے تھے جس کے جواب میں بھارتی حکومت نے یہ اہم اقدام اٹھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت نے چین کی جانب سے نام بدلنے کی سخت مخالفت کی۔ ناموں کی فہرست میں 11 رہائشی مقامات، 12 پہاڑ، 4 دریا، 1 جھیل، 1 پہاڑی اور 1 زمینی ٹکڑا شامل ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اروناچل پردیش ہمارا اٹوٹ انگ ہے جسے ملک سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔
دلچسپ طور پر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مودی حکومت کی مسلسل تیسری کابینہ میں شمولیت کے ساتھ ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہوئے کہا کہ بھارت چین کے ساتھ 7 سرحدوں پر باقی مسائل کو بھی حل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








