بالی ووڈ کنگ کہلانے والے بھارتی اداکار شاہ رخ خان کم و بیش 3 سال سے میڈیا سے گفتگو سے گریز کی پالیسی پر کاربند ہیں، ممبئی میں مقیم بھارتی رپورٹر وریندر چاؤلہ کا کہنا ہے کہ سپر اسٹار شاہ رخ خان جان بوجھ کر میڈیا سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی صحافی نے کہا کہ جب سے شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو میڈیا نے کوریج دی جس کی وجہ منشیات کے ایک کیس میں گرفتاری تھی، شاہ رخ خان نے میڈیا سے بات چیت چھوڑ دی جبکہ مئی 2022 میں یہ کیس خارج کردیا گیا تھا۔
بھارتی صحافی وریندر چاؤلہ نے کہا کہ گزشتہ برس شاہ رخ خان کی فلم پٹھان ریلیز ہوئی تو میری ٹیم نے بالی ووڈ کنگ کہلانے والے فنکار کو دیکھا اور مجھے بھیجا گیا لیکن مجھے اچھا نہیں لگا کیونکہ شاہ رخ خان کے برتاؤ سے ایسا لگا جیسے ہم نے ان کی نجی زندگی پر حملہ کیا ہو۔
صحافی وریندر چاؤلہ کا کہنا ہے کہ میں نے اداکار کے پی آر کوکال کی اور اپنی ٹیم کی ویڈیو کے متعلق آگہی دی اور بتایا کہ میں اس کو استعمال نہیں کروں گا اور آپ کی پرائیویسی پر حملہ کرنے پر معذرت خواہ ہوں۔ میری کال کے فوراً بعد مجھے شاہ رخ خان کے منیجر کی کال آگئی۔
وریندر چاؤلہ نے کہا کہ منیجر نے میرا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ شاہ رخ خان بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے 5 منٹ سے زائد وقت تک بات کی اور شاہ رخ خان سے بات کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ اپنے بیٹے آریان خان سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ہم ان سے شکایت کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہ رخ خان کو میڈیا سے شکایت ہے کہ انہوں نے آریان خان کے ساتھ کیا کیا؟ آریان کی گرفتاری کے بعد تمام الزامات سے بری ہونے سے قبل انہوں نے 22دن جیل میں گزارے۔ شاہ رخ خان نے جیل میں جا کر آریان خان سے ملاقات کی جب فوٹوگرافرز نے ان کو گھیر لیا۔
یہ وہ تمام تر مسائل تھے جن کے سامنے آنے کے بعد شاہ رخ خان نے میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی تصویر بھی کھنچوانے سے گریز کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی میڈیا نے آریان خان کے کیس کو اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور بعض اوقات دشمنوں جیسا برتاؤ بھی کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








