پشاور: نامعلوم مسلح افراد نے سینئر صحافی خلیل جبران کو خیبر پختونخواکے شہر لنڈی کوتل میں ان کی رہائش گاہ کے قریب اس وقت قتل کر دیا جب وہ گھر واپس جا رہے تھے۔،
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر سلیم عباس کے مطابق خلیل جبران کو موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے دوست سجاد ایڈووکیٹ کے ساتھ گھر جا رہے تھے۔
حملہ آوروں کی فائرنگ سے خلیل جبران موقع پر جاں بحق اور سجاد زخمی ہوگیا۔ سلیم عباس نے بتایا کہ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ، خلیل جبران کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لنڈی کوتل اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ واقعہ لنڈی کوتل پولیس اسٹیشن کے قریب مزرینہ علاقے میں پیش آیا۔ ڈی پی او سلیم عباس نے یہ بھی بتایا کہ خلیل جبران کو پہلے بھی دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو صحافی کے قتل کے ذمہ داروں کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ کے پی کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی قتل کی مذمت کی۔
خلیل جبران کون تھا؟
خلیل جبران خیبرپختونخوا کے ایک سینئر صحافی تھے جن کا میڈیا میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ تھا۔ وہ لنڈی کوتل پریس کلب کے سابق صدر تھے اور انتقال کے وقت نجی نیوز چینل خیبر نیوز سے وابستہ تھے۔
ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے خیبر نیوز کے رپورٹر کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کے پی کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر داخلہ پر زور دیا کہ جبران کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








