سندھ حکومت نے صوبے میں متوسط طبقے کو سولر سسٹم لگانے کے لیے بلاسود قرضے دینے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ کے وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یہ خبر شیئر کی، جہاں انہوں نے قوم کو عید کی مبارکباد بھی دی اور لوگوں سے شہداء کو یاد رکھنے کی تلقین کی۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر توانائی نے صوبے کو درپیش مختلف مسائل کا اعتراف کیا اور بجٹ کے ذریعے ان مسائل کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سندھ میں نئے منصوبوں سے زیادہ جاری اسکیموں کو ترجیح دی گئی ہے، عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے۔
انہوں نے سندھ بھر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے میں اب بھی 200000 سے زائد گھر بجلی سے محروم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت سالانہ 500000 لوگوں کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ابتدائی طور پرزیادہ غریب گھرانوں کو ایک پنکھا اور تین بلب چلانے کے قابل شمسی نظام ملے گا۔
جو لوگ آزادانہ طور پر سولر سسٹم انسٹال کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے حکومت بلاسود قرض کی اسکیم متعارف کروا رہی ہے۔ ان قرضوں پر سود سندھ حکومت ادا کرے گی۔ ناصر شاہ نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کے لیے سندھ کے ہر ضلع میں دو گرڈ اسٹیشن تعمیر کرنے کے منصوبوں کا انکشاف کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








