اگر آپ سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک استعمال کرتے ہیں تو ممکنہ طور پر آپ کو پاکستان کے گلابی نمک اور بھارت کے ساتھ اس کے مبینہ معاہدے کے بارے میں پوسٹ اکثر دیکھنے کو ملتی ہونگی۔
ان پوسٹوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستانی گلابی نمک (راک سالٹ) کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت ہے لیکن بھارت کے ساتھ ایک دیرینہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے پاکستان مبینہ طور پر اس نمک کو انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوستان نمک کو دوبارہ برآمد کرتا ہے، بشمول امریکا کو، جس سے سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔
ان پوسٹوں میں شہری پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ گلابی نمک کے معاہدے کو ختم کرے اور اس کے بجائے نمک کو براہ راست بین الاقوامی منڈی میں ایکسپورٹ کر کے ہر سال اربوں ڈالر کمائے۔ تاہم حقیقت بالکل مختلف ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں:
چار سال قبل پاکستانی سینیٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو گلابی نمک 37 پیسے فی کلو گرام کے حساب سے برآمد کرنے کا دعویٰ غلط ہے۔
اس وقت کے وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے واضح کیا تھا کہ میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں جھوٹی ہیں۔ انہوں نے اس دعوے کی تردید کی کہ پاکستان بھارت کو نمک 25 پیسے فی کلو کے حساب سے برآمد کر رہا تھا، جسے بھارت نے مبینہ طور پر 3000 روپے فی کلو سے زیادہ کے حساب سے امریکا اور دیگر ممالک کو دوبارہ برآمد کرتا ہے۔
اعظم خان سواتی نے وضاحت کی کہ پاکستان بھارت کو گلابی نمک اوسطاً 7.04 روپے فی کلوگرام کے حساب سے برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان چٹانی نمک کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، جس کی سالانہ برآمدات تقریباً 12.8 ملین ٹن ہیں۔
ہندوستان بنیادی طور پر سوڈا ایش میں استعمال ہونے والے کم معیار کا صنعتی نمک برآمد کرتا ہے، برآمد شدہ نمک کی قیمت 226 ملین ڈالر تھی، جس کی اوسط یونٹ قیمت 18 ڈالر فی ٹن یا تقریباً 2اعشاریہ 7 روپے فی کلوگرام ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








