عید الاضحی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ کاروباری اعتبار سے بھی بہت اہمیت رکھتی ہے، جانوروں کی خریدو فروخت اور کھال سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔
اس سال عید الاضحی کے تین دنوں کے دوران پاکستان بھر میں 1250000 سے زائد قربانی کے جانور ذبح کیے گئے۔ ان جانوروں کی کل مالیت 500 ارب روپے تھی، قربانی کے بعد خاصل ہونے والی کھالوں کی مالیت 85 ارب تک ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق اس سال کی قربانیوں میں 290000 گائیں، 330000 بکرے، 385000 بھیڑیں، 98000 اونٹ اور 165000 بھینسیں شامل تھیں۔
قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی کل مالیت 85 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے تاہم رپورٹ میں ان خدشات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ شدید گرمی اور ناقص انتظام کی وجہ سے 40 فیصد تک کھالیں ضائع ہو سکتی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق قربانی کے جانور عموماً چمڑے کی صنعت کے لیے سالانہ 20 فیصد خام مال فراہم کرتے ہیں، مہنگائی کے باعث اس سال بہت سے لوگ قربانی نہیں کر سکے جس کی وجہ سے اس سال کی شراکت میں کمی متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








