پنجاب میں 116سال پرانا قانون تبدیل، پاکستانی بیرونِ ملک سے جائیداد کی خریدوفروخت کیسے کرسکتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پنجاب میں 116سال پرانا قانون تبدیل، پاکستانی بیرونِ ملک سے جائیداد کی خریدوفروخت کیسے کرسکتے ہیں؟
(فوٹو: ڈان امیجز)

پنجاب میں 116سال پرانا قانون تبدیل کیا جارہا ہے۔ حکومت نے ملک سے باہر بیٹھے پاکستانیوں کو جائیداد کی خریدوفروخت کی سہولت دینے کیلئے قانونی پیچیدگیوں سے آزاد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اوور سیز پاکستانیوں کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کیے بغیر جائیداد کی خریدوفروخت کی سہولت دینے کیلئے 1سو 16 سال پرانے قانون میں ترامیم کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے۔

اوور سیز پاکستانی سیل ڈیڈ کیلئے اپنا بیان سفارت خانے میں قلمبند کروانے کے پابند ہوں گے، اس ضمن میں بیرونِ ملک رہائش پذیر پاکستانی نہ صرف اپنا قیمتی وقت بلکہ سفری اخراجات کی مد میں کروڑوں روپے بھی بچا سکیں گے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر قیادت صوبائی حکومت نے رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 31 میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا۔ نئی ترامیم کے تحت کوئی بھی اوور سیز پاکستانی جائیداد کی خریدوفروخت کیلئے وطن واپسی کا پابند نہیں رہے گا۔

پاکستان آمد کی بجائے اوور سیز پاکستانیوں کو سیل ڈیڈ کیلئے اپنا بیان سفارت خانے میں ریکارڈ کروانا ہوگا۔ماضی میں رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت سمندر پار پاکستانی متعلقہ سفارت خانوں میں پاور آف اٹارنی رجسٹرکروا کر پاکستان بھیجتے تھے۔

پاور آف اٹارنی حاصل کرنے والا شخص رجسٹرار کے سامنے جائیداد خریدنے یا فروخت کرنے کا مجاز بن جاتا تھا، تاہم پرانے قانون کے باعث اوور سیز پاکستانیوں کو دھوکہ دہی اور فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور قانونی پیچیدگیاں بھی مختلف مسائل کا باعث بنتی تھیں۔

Related Posts