بلا تحقیق توہینِ مذہب کا الزام عائد کرنا کتنا غلط؟ علمائے کرام کی مختلف آراء

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: ورلڈ ریلیجن نیوز)

اسلام آباد: علمائے کرام نے بلا تحقیق توہینِ مذہب کا الزام عائد کرنے کو غلط اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گستاخی کے محض الزام پر کسی کو قتل کرنا ناجائز اور حرام ہے۔

تفصیلات کےمطابق سوات کے علاقے مدین میں مشتعل افراد کے ہاتھوں توہینِ مذہب کے الزام میں ایک شخص کو زندہ جلانے اور تھانے کو بھی آگ لگا دینے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رئیس جامعہ بنوریہ عالمیہ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے بلا تحقیق الزام عائد کرنے کو غلط قرار دیا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق رئیس جامعہ بنوریہ نے کہا کہ تحقیق اور دلیل کے بغیر کسی پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کرنا یا قتل کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ صرف الزام کے تحت ہجوم کا کسی کو قتل کرنا غیر اسلامی جبکہ سوات کا واقعہ افسوسناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ سوات میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیق کرکے مجرم کو عبرت ناک سزا دینا ہوگی۔ اسی طرح ڈاکٹر اسلم خاکی نے کہا کہ توہینِ مذہب کے نام پر جنونی ہجوم کے ہاتھوں قتل کے پے درپے واقعات ہمارے ملک میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر اسلم خاکی نے کہا کہ مذہبی شدت پسندوں نے ریاست کے اندر ریاست کی حیثیت اختیار کرلی۔ موجودہ اور ماضی کی حکومتیں ریاستی رِٹ کی ناکامی کی ذمہ دار ہیں۔ مذہبی شدت پسند ماورائے عدالت قتل کے نہ صرف فیصلے کرتے بلکہ سزائیں بھی دیتے نظرآتے ہیں۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ جنونی ہجوم قتل کے پے درپے واقعات کا باعث بنتا ہے، ایسے واقعات ریاست کی ناکامی کے مترادف ہیں۔ 80 کے عشرے میں مذہبی گروہوں کی سرپرستی کئی مسلم ممالک کر رہے تھے، مگر بعد میں ان ممالک نے اصلاح کرلی۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان نے اپنی اصلاح نہیں کی جس کی وجہ سے بار بار ایسے واقعات پیش آرہے ہیں۔ چیئرمین رحمت للعالمین اتھارٹی خورشید ندیم نے کہا کہ ریاستی و سماجی سطح پر ہنگامی صورتحال ہے، اگر ہم اپنی ذمہ داری ادا نہ کرسکے تو معاشرہ جینے کے قابل نہیں ہوگا۔

Related Posts