الزام تراشی نامناسب، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل ہوگا، الیکشن کمیشن

تازہ ترین

تازہ ترین

الیکشن کمیشن
(فوٹو: فرسٹ پوسٹ)

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بعض سیاست دانوں کی جانب سے الزام تراشی کو نامنباسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا، حکام کا کہنا ہے کہ فیصلے میں قانونی سقم کا جائزہ لیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم کو ہدایات جاری کردی گئیں۔

ہدایات کے مطابق لیگل ٹیم اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے کسی نکتے پر عملدرآمد میں رکاوٹ دیکھے تو فوری طور پر نشاندہی کی پابند ہے  تاکہ مزید رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ سے استدعا کی جائے۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے بیان جاری کردیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے مخصوص نشستوں سے متعقل سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے سلسلے میں اجلاس کی صدارت کی۔ اس دورران ایک سیاسی جماعت کی بے جا تنقید پر شدید مذمت کی گئی۔

مخصوص جماعت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے کمیشن نے مضحکہ خیز قرار دیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ کمیشن نے کسی فیصلے کی نہ تو غلط تشریح کی ہے اور نہ ہی انٹرا پارٹی الیکشن کو درست قرار دیا ہے۔ مختلف فورمز نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن درست نہیں تھے۔

انٹرا پارٹی الیکشن درست نہ ہونے پر بلے کا نشان واپس لیا گیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن پر الزام تراشی انتہائی نامناسب ہے۔ جن 39 اراکین قومی اسمبلی کو پی ٹی آئی کا قرار دیا گیا، انہوں نے پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کی تھی۔

ای سی پی کا کہنا ہے کہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار ہونے کیلئے پارٹی ٹکٹ اور ڈکلریشن ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کروانا ضروری ہے جو کہ امیدواروں نے جمع نہیں کروایا تھا، اس لیے ریٹرننگ آفیسرز نے انہیں پی ٹی آئی کا امیدوار ڈکلیئر نہیں کیا۔

جن 41امیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا ہے، انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی میں پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر نہیں کی، اس لیے ان کو آزادحیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اور الیکشن جیتنے کے بعد اراکین نے خود سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ تحریکِ انصاف کے حق میں سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں واپس دی جائیں۔ حکمراں جماعت ن لیگ نے فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دے دی ہے۔

Related Posts