کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان نشاط میں جمعرات کو رات دیر گئے دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم میں مرحوم بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے بھتیجے سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔
جاں بحق ہونے والوں میں میر محسن بگٹی، میر عیسیٰ بگٹی، علی بگٹی، فہد بگٹی اور نصیب اللہ شامل ہیں۔ زخمیوں میں میر علی حیدر بگٹی اور قائم علی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق مسلح تصادم فہد بگٹی اور علی حیدر بگٹی گروپوں کے درمیان تھا۔ ایک گروپ کے تین اور دوسرے گروپ کے دو افراد مارے گئے۔ دونوں گروپوں کا تعلق نوابزادہ اکبر بگٹی کے خاندان سے ہے۔
کراچی کے جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ دونوں گروپوں کے کئی افراد اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر جمع ہیں۔ زخمیوں کے علاوہ کسی کو بھی ایمرجنسی وارڈ میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال میں 5 لاشیں لائی گئی ہیں جب کہ 2 زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مزید جھڑپوں کو روکنے کے لیے نفری تعینات کر دی گئی ہے اور پولیس کارروائی میں مصروف ہے۔ فہد بگٹی اور نصیب اللہ کی لاشیں جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے مردہ خانے منتقل کردی گئی ہیں جب کہ باقی تین لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کردیا گیا ہے۔
ادھر سندھ کے وزیر داخلہ ضیا حسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، قانون کی حکمرانی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلح تصادم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہر میں قیام امن کی کوششوں کو کمزور کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








