قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کو بریفنگ میں سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے بتایا کہ پاکستان کا رواں سال سعودی عرب اور چین سے 9 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کروانے کا پلان ہے، تاہم سعودی عرب نے خام تیل دوبارہ ادھار پر فراہم کرنے کی حامی نہیں بھری۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس عاطف خان کی زیر صدارت ہوا، سیکریٹری اقتصادی امور نے بریفنگ میں بتایا کہ سرکار کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ لوگوں کو روزگار دے اور نہ ہی لوگوں کے مالی حالات بدلنے کیلئے وسائل ہیں، کئی سرکاری محکمے قرض لیتے ہیں جس پر حکومت گارنٹی لیتی ہے۔
قرضوں کی تفصیلات بتاتے ہونے انھوں نے کہا کہ ایک وہ قرض ہے جو حکومت خود بینکوں سے لے رہی ہے، دوسرا قرض وہ ہوتا ہے جس کی گارنٹی حکومت لیتی ہے، کئی سرکاری محکمے قرض لیتے ہیں جس پر حکومت گارنٹی لیتی ہے۔
رکن کمیٹی جاوید حنیف نے کہا بہت سی این جی اوز کو بیرون ممالک سے فنڈنگ آرہی ہے، سب جانتے ہیں سعودیہ اور ایران سے فنڈنگ کیوں آرہی ہے، اس پر سیکریٹری اقتصادی امور نے جواب دیا پہلے این جی اوز کیلئے فارن فنڈنگ لانا بہت مشکل ہوتا تھا، ہم نے این جی اوز کے لیے آن لائن سہولت پیدا کر دی ہے، ہم نے این جی اوز کیلئے فنڈنگ لانے کا عمل آسان کیا ہے، ہمارا مقصد ہے کہ موجودہ حالات میں ڈالرز ملک میں آتے رہیں، سرکار کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ لوگوں کو روزگار دے سکے، سرکار کے پاس لوگوں کے مالی حالات بدلنے کیلئے بھی وسائل نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








