امریکی ریاست نیو جرسی کی کمپنی ٹرائٹن الیکٹرک وہیکل نے نئی قسم کا انجن ایجاد کرلیا جسے ہائیڈروجن کے استعمال سے چلایا جاسکتا ہے۔ کاروں اور ہیوی ٹرک کے کامیاب تجربات کے بعدٹیسلا سمیت الیکٹرک کار بنانے والی کمپنیوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی ٹرائٹن ای وی نے جدید ہائیڈروجن انٹرنل کمیشن انجن کا آغاز کیا ہے جس میں سستے اور ماحول دوست ایندھن ہائیڈروجن کا استعمال کیا جائے گا جس سے فضائی آلودگی کم ہوسکے گی۔ انجن کی تیاری بھارت میں عمل میں لائی گئی۔
ٹرائٹن کمپنی کے بانی و منیجنگ ڈائریکٹر ہمانشو پٹیل کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن انجن توانائی ضائع کیے بغیر ہائیڈروجن ہر ممکن حد تک مؤثر طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس سے ایندھن کی بچت اور آپریشنل اخراجات کم ہوں گے۔ نئی پیشرفت تمام تر ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔
تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیسلا اور دیگر کمپنیوں کو نئے ہائیڈروجن انجن کی ایجاد سے ایک اہم حریف مل گیا ہے کیونکہ الیکٹرک گاڑیاں ری چارجنگ کے بغیر زیادہ دور تک جانے میں ناکام رہتی ہیں جنہیں ری چارج کیلئے کافی وقت بھی درکار ہوتا ہے جبکہ ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیاں ایسے مسائل کا شکار نہیں ہوتیں۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ہائیڈروجن انجن سے چلنے والی گاڑیوں میں پیٹرول کی طرح ہائیڈروجن کا فیول سیل بھرا جاتا ہے جو طویل فاصلے تک مدد دیتا ہے اور مسابقتی مارکیٹ میں ہائیڈروجن انجن کی حامل گاڑیاں برتری حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر آتی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہیوی ٹرک بھی بنائے جارہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








