ایران کا کہنا ہے کہ ہم اس بار اسرائیل کی ریڈ لائن عبور کریں گے کیونکہ اسرائیل نے بھی ایران کی ریڈ لائن کراس کی ہے۔
لبنانی میڈیا نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حزب اللہ بھی اسرائیل کی ریڈلائن کراس کرے گی۔ ایرانی رہنما کا کہنا ہے کہ اس بار ہمارا رد عمل علامتی نہیں ہوگا، اس بار ہم دشمن سے بڑا حساب چکانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ایرانی رہنما نے کہا کہ ہمیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ ہمارے ردعمل سے بڑی جنگ چھڑ جائے گی۔
مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے اسکائی نیوز عریبیہ کو بتایا کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ ایران حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے جواب میں تیشا باؤ پر اسرائیل پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو 12 اگست سے شروع ہو کر 13 اگست کو ختم ہوگا۔
مبینہ طور پر ایران کے حملے کو حزب اللہ کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، جو لبنان میں ایران کا حمایت یافتہ عسکری گروپ ہے۔
تیشا باؤ پر یہودی پہلے اور دوسرے ٹیمپلز کی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سالانہ تقریب کے دوران فاقہ اور ماتم کیا جاتا ہے۔ تین ذرائع نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ایران نے ہنیہ کے قتل کا جواب دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اس یوم سوگ پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کا جذباتی اور نفسیاتی اثر ہوگا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی اس دن خاص طور پر کمزور محسوس کرتے ہیں، جس سے نفسیاتی عذاب کی ایک اضافی پرت شامل ہوگی۔
خیال رہے کہ ماضی میں بھی صیہونیوں پر حملوں کی توجہ ان کی تعطیلات پر مرکوز کی جاتی رہی ہے، جیسا کہ 7 اکتوبر کو ہوا تھا، جو سمچات تورات اور شبت، اور 1973 میں یوم کپور جنگ پر ہوا تھا۔
ایران کو مبینہ طور پر امید ہے کہ اس دن حملہ حیرت کا عنصر لائے گا۔ اسکائی نیوز عربیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے کی میڈیا کوریج سے عالم اسلام کو یہ پیغام جائے گا کہ ’اسرائیل تباہی کا شکار ہے‘۔
اگرچہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے بین الاقوامی برادری کو تنازعے کا سیاسی حل تلاش کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دن حملہ کرنے سے اسرائیل پر حملہ کرنے والے گروہوں کے حوصلے بحال ہو سکتے ہیں، مستقبل میں حملوں کے لیے ان کو تقویت ملے گی اور یہ ظاہر ہو گا کہ ایران خطے میں پشت پناہی جاری رکھے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








