فوج میں بغاوت، قتل کی سازش، فیض حمید کیخلاف کیا کیا انکوائریاں ہونے والی ہیں، سینئر صحافی کے ہوشربا انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ڈان

سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کو ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں فوج نے اپنی حراست میں لیکر کورٹ مارشل کا آغاز کردیا ہے، اب ان کے حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے بڑے ہوشربا انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کیخلاف کیا کیا انکوائریاں ہونے والی ہیں۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی حامد میر نے نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیض حمید کے خلاف تین چار اور بھی کیسز ہیں، اور بھی معاملات میں ان کے خلاف انکوائری چل رہی تھی، ٹاپ سٹی والا معاملہ کافی معروف ہے اور اس میں تحقیقات کافی عرصہ پہلے مکمل ہوچکی تھیں۔

حامد میر نے کہا کہ فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں، کور کمانڈر پشاور رہے ہیں،  ان کے پاکستان کی سیاسی اشرافیہ میں کافی تعلقات تھے، وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے تحقیقات سے بچنے کی کوشش کرتے رہے اور اس وقت جو موجودہ وزیراعظم ہیں شہباز شریف صاحب، ان سے اُنہوں نے ملاقات کی سر توڑ کوشش کی، ان کو پیغامات بھجوائے بلکہ شہباز شریف صاحب کی کابینہ میں شامل کچھ لوگوں نے بھی سفارش کی جنرل فیض کی کہ شہباز شریف صاحب آپ ان سے ملاقات کر لیں، لیکن شہباز شریف صاحب نے جنرل فیض کے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے اور ان سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔

حامد میر کے مطابق اس کے بعد حال ہی میں کچھ انویسٹی گیشنز ہوئیں، جنرل فیض کے بارے میں یہ افواہیں پھیلائی جاتی تھیں کہ وہ بڑی پابندیوں کا شکار ہیں وہ کسٹڈی میں ہیں یا ہاؤس اریسٹ ہیں، ایسی کوئی بات نہیں تھی وہ بالکل آزاد تھے، اور ان کی آزادی ان کی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی کیونکہ ان کے رابطوں کو مانیٹر کیا جارہا تھا، اس دوران یہ بھی پتا چلا کہ جنرل فیض حمید کا 9 مئی 2023 کے واقعات کی پلاننگ میں کردار تھا، بغاوت کی جو کوشش تھی اس میں بھی ان کے مشورے شامل تھے۔

حامد میر نے دعویٰ کیا کہ پچھلے سال فیض حمید کے حوالے سے کچھ شواہد ملے کہ جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو انہوں نے کچھ سیاسی شخصیات اور صحافیوں کو قتل کرانے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں باقاعدہ کچھ ثبوت بھی حاصل کئے گئے ہیں۔

حامد میر نے کہا کہ حکومت کو تھوڑے دن پہلے ہی ان کے بارے میں پتا چلا کہ وہ ابھی بھی پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے اپنی پارٹی قیادت کو شکایت بھی کی کہ جنرل فیض ہم سے رابطہ کرکے ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کیا کریں، جس پر انہیں کہا گیا کہ آپ کو ان کی بات سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ بات حکومت تک پہنچ گئی اور اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کا حکم دیا۔

حامد میر نے کہا کہ ٹاپ سٹی کے علاوہ تین اور معاملات ہیں جن پر فیض حمید کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔

Related Posts