مغربی معاشرہ جسمانی تعلقات کے حوالے سے انتہائی گراوٹ کا شکار ہے، حال ہی میں دو جوڑوں کی شادی کے برسوں بعد طلاق ہو گئی تاکہ وہ چاروں آپس میں جنسی تعلقات قائم کرسکیں۔
امریکا کے شہر نیویارک میں رہنے والی 34 فیملی تھراپسٹ ریچل نے نیوز چینل انسائیڈر کو بتایا کہ جب سے وہ پہلی بار اکٹھے ہوئے تھے تب سے وہ کائل پولیموری کے بارے میں متجسس تھیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا چونکہ ہمارا معاشرہ بہت غیر معیاری ہے، اس لیے مجھ میں یہ کہنے کی ہمت نہیں تھی، ہاں، میں یہی چاہتی ہوں اور نہ ہی کائلی میںہمت تھی کہ وہ اقرار کرسکیں۔جب انہوں نے آخر کار اس راستے کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ سب آپس میں ایک ہوگئے۔
ریچل کے مطابق انہوں نے ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور جیسے ہی انہوں نے دوسرے لوگوں سے ڈیٹنگ شروع کی تو کائلی سے مل کر بہت خوشی محسوس ہوئی۔
کائلی اور میرے خیالات ایک جیسے تھے اس لئے مجھے کائلی کے ساتھ مزہ اور خوشی ملی۔ہم آپس میں ڈیٹنگ کرتے رہے لیکن کورونا کی وجہ سے اپنے مستقبل کے منصوبوں کو روکنا پڑا۔
https://www.unilad.com/community/two-couples-divorce-polyamory-foursome-513539-20230317
لاک ڈاؤن کی پابندیاں کم ہونے کے بعد ہم چاروں یعنی ریچل، کائلی، ایشلے اور یائرنے آپس میں ڈیٹنگ شروع کردی اور ایک دوسرے کے گھروں میں ڈیٹنگ کے دوران آپس میں پارٹنر تبدیل کرتے رہے اور ملکر تعلقات بناتے رہے۔
پہلی ملاقات کے تقریباً 18 ماہ بعد چاروں نے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کیاتو ہم واقعی ایک خاندان کے طور پر رہتے تھے، ایک کتے کو گود لیتے تھے اور گھر کے لیے کام کا شیڈول ترتیب دیتے تھے۔
ریچل نے بتایا کہ جب ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہماری شادیاں ہمیں کوئی عملی فائدہ نہیں دیتیں تو ہم نے طلاق کا فیصلہ کیا اور دونوں جوڑوں نے طلاق حاصل کرلی۔ جس کے بعد ہم سب ایک گھر میں ملکر رہتے ہیں اور کسی پر کوئی پابندی یا روک ٹوک نہیں ہے جو جس کے ساتھ چاہے رہ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








