نئی دہلی: بھارت میں لیڈی ڈاکٹر سے 10 افراد نے اجتماعی زیادتی کی اور بہیمانہ جنسی تشدد کے بعد قتل کردیا جس پر مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
بھارتی ڈاکٹرز نے ساتھی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے خلاف ملک گیر مظاہروں اور ہڑتالوں کی شدت تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وحشیانہ قتل ہے، جس سے خواتین کے خلاف تشدد کا اہم مسئلہ مزید اجاگر ہوا۔ بھارتی شہر کلکتہ میں 9 اگست کو خاتون کی تشدد زدہ لاش ملی تھی۔
کلکتہ سے برآمد ہونے والی لیڈی ڈاکٹر کی خون میں لت پت لاش نے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا جس کے بعد ملک گیر مظاہروں کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر رہنما سوورنکمار دتا نے گزشتہ روز کہا کہ ہم اپنی ساتھی کیلئے انساف کے مطالبے کی منظوری تک مظاہروں میں شدت لا رہے ہیں۔
پیر کے روز بھی کئی بھارتی ریاستوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے احتجاجاً کام بند کردیا تھا جو غیر معینہ مدت تک بند رہے گا۔ سرکاری و نجی اداروں کی متعدد طبی تنظیمیں اس ہڑتال کی حمایت کر رہی ہیں۔ بدھ کو بھی ہزاروں افراد نے ریلی نکالی۔
آدھی رات کو بھارت کے جشنِ آزادی کی تیاریوں کے ساتھ ہی ہزاروں افراد موم بتیاں لے کر ریلی کی صورت میں بھارتی شہر کلکتہ میں اپنے اپنے گھروں سے باہر سڑک پر نکل آئے۔ بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ہفتے کو 24 گھنٹون کیلئے خدمات معطل کردی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون ڈاکٹر کی لاش ٹیچنگ ہسپتال کے سیمینار ہال سے برآمد ہوئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ طویل شفٹ کے دوران مختصر آرام کیلئے وہاں گئی تھیں، جس کے بعد ان کو بد ترین جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا جس کی شکایت کی گئی ہے۔
بھارت میں جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ تشویشناک مسئلہ بنتا جارہا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خاتون سے جنسی استحصال کی تصدیق ہوئی۔ متاثرہ والدین نے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں شبہ ہے کہ ہماری بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








