کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ شہریوں کو سستی بجلی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت کے پاس 2014 سے منصوبے موجود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات سندھ نے صوبے میں بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کی اور ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے سندھ حکومت کے پاس ایسے پراجیکٹ موجود ہیں جن سے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ہمیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ پہلے مسلم لیگ (ن) اور پھر پی ٹی آئی حکومت نے رکاوٹیں ڈالیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران سعید غنی نے کہا کہ پنجاب میں امپورٹڈ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے انتظامات کیے جاتے رہے۔ امپورٹڈ ایل این جی کے منصوبے لگائے گئے اور آج وہ منصوبے ہمارے گلے پڑ گئے ہیں۔ ہم سولر انرجی اور ہوا سے بجلی پیدا کرسکتے تھے جس سے عوام کو سستی بجلی مل سکتی تھی۔ کچھ حکومتوں نے ماضی میں غلطیاں کیں، یہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا مناسب نہیں۔
گفتگو کے دوران سعید غنی نے پنجاب میں سستی بجلی کی فراہمی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2 ماہ کیلئے بجلی کی قیمت 14روپے فی یونٹ کرنا سیاسی دکھاوا تو ہوسکتا ہے لیکن لوگوں کیلئے طویل المدت ریلیف نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ شہریوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو وہ طویل المدت ہونا چاہئے۔ مہنگی بجلی پیدا کرنے والے منصوبے بند کرنے کے اقدامات کریں۔
وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ ہم کسی کی اندھی تقلید کیوں کریں؟ گورنر سندھ کو بھی اس پر کام کرنا چاہئے تھا۔ سوچنا چاہئے کہ ہم دو ماہ کیلئے اربوں روپے کیوں خرچ کریں؟ اگر شہریوں کو مستقل ریلیف ملے تو ہم پیسے دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ مہنگی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو سسٹم سے نکالیں۔ شہریوں کو سستی بجلی فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








