کوئٹہ: بلوچستان کے شہر موسیٰ خیل میں 23 مسافر گاڑیوں سے اتار کر قتل کردئیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقتول مسافر ٹرکوں اور مسافر بسوں پر سوار تھے۔
تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کا یہ افسوسناک واقعہ موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں پیش آیا جہاں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کردیا گیا۔ ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی نے کہا کہ تمام افراد کو قتل کرنے کیلئے بسوں اور ٹرکوں سے اتارا گیا۔
ایس ایس پی موسیٰ خیل نے کہا کہ مسلح ملزمان نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگایا اور مسافروں کو بسوں سے اتارا اور مسافروں کو قتل کرنے کے بعد 10گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور لیویز فورس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی جانب سے قتل کیے گئے افراد کی میتیں ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نہتے مسافروں کو قتل کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ کا بیان
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے موسیٰ خیل کے قریب دہشت گردی کے واقعے کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے 23 مسافروں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اور سہولت کار عبرت ناک انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔ حکومت دہشت گردوں اور سہولت کاروں کا پیچھا کرے گی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








