سوئس ریسرچ گروپ نے ایک نئی تحقیق میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ میں ذہنی صحت کی سنگین صورتحال کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے باسی زندہ رہنے کے بجائے مرنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ کے تقریباً 1.2 ملین بچوں میں سے تقریباً سبھی کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ غزہ کے بہت سے لوگوں نے جن میں بچے بھی شامل ہیں، مزید “بے گھری، تشدد اور محرومی” کو برداشت کرنے کے بجائے مرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیشتر فلسطینی ذہنی مسائل سے دوچار ہیں، جن میں بے چینی، خودکشی کے خیالات شامل ہیں اورغزہ میں محفوظ پناہ گاہ کی عدم موجودگی نے دماغی صحت کے بحران کو مزید بڑھا دیا۔
رپورٹ میں غزہ کے باشندوں خاص طور پر بچوں کی ذہنی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی گئی، جو مسلسل تشدد اور صدمے سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تباہ کن نقصان ہوا ہے جس میں 40000 سے زیادہ فلسطینی مارے جاچکے ہیں جن میں 16456 بچے اور 11000 خواتین بھی شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








