کراچی میں بجلی کی ترسیل پر مامور کے الیکٹرک سندھ حکومت کی اربوں روپے کی مقروض ہونے کے باوجود بقایا جات کی ادائیگی سے انکاری ہے۔
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں کے الیکٹرک کے 29 ارب روپے کے مقروض ہونے کا انکشاف سامنے آیاجس پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کے الیکٹرک کے سی ای او کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ کے الیکٹرک سندھ حکومت کی29ارب روپے کی نادہندہ ہے اور کے الیکٹرک نے گزشتہ برسوں میں الیکٹرک سٹی ڈیوٹی حکومت کو ادا نہیں کی ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن قاسم سومرو نے سوال اٹھایا کہ صارفین سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی لیتے ہیں تو جمع کیوں نہیں کراتی جس پر نمائندہ کے الیکٹرک سعدیہ دادا نے کہاکہ کے الیکٹرک کے پاس پیسے نہیں ہیں اور 29ارب روپے ادا نہیں کرسکتے۔
کے الیکٹرک کے سی ای او کی اجلاس میں عدم شرکت کے سوال پر سعدیہ دادا نے بتایا کہ وہ بیمار ہیںجبکہ گزشتہ اجلاس میں بھی کے الیکٹرک نے سی ای او کی علالت کا جواز پیش کرکے عدم شرکت کی توجہی پیش کی تھی۔
واضح رہے کہ کراچی کے شہری پاکستان میں سب سے مہنگی بجلی استعمال کررہے ہیں، کے الیکٹرک ہر چند روز بعد نیپرا کے پاس فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر قیمت میں اضافے کی درخواست لے کر پہنچ جاتا ہے۔
کراچی کے شہری بجلی کے بل بھرنے کیلئے گھروں کا سامان اور زیور تک بیچ رہے ہیں، بعض لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں تاہم کے الیکٹرک خود اپنے واجبات ادا کرنے کو کسی صورت تیار نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








