حکومت ہی نہیں اب ملازمین کو بھی حصہ ملانا ہوگا کیونکہ، پاکستان کی نئی پنشن فنڈ اسکیم کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

What is Pakistan’s new ‘Contributory Pension Fund Scheme’?

وفاقی حکومت نے نئے ملازمین کے لیے نئی پنشن فنڈا سکیم متعارف کرائی ہے جس کا مقصد ایک خود مختار فنڈ کے قیام کے ذریعے بڑی پنشن کی ادائیگیوں کا زیادہ مؤثر طریقے سے انتظام اور ممکنہ طور پر موجودہ عوامی اخراجات کو کم کرنا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ جاری اخراجات پر مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے پبلک سیکٹر کے پنشن کے نظام میں اصلاحات کرے۔

وزارت خزانہ کے ایک بیان کے مطابق نئی ا سکیم کے تحت وفاقی ملازمین اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ ڈالیں گے جبکہ حکومت 20 فیصد حصہ ڈالے گی۔

بیان میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ اسکیم کا اطلاق تمام وفاقی سول ملازمین پر ہوگا بشمول دفاعی تخمینہ سے ادا کیے جانے والے عام شہری جو 1 جولائی 2024 کو یا اس کے بعد مستقل بنیادوں پر تعینات ہوتے ہیں۔

حکومت نے 25-2024 کے بجٹ میں پنشن فنڈ کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے ہیں تاہم یہ نئی اسکیم موجودہ ملازمین پر لاگو نہیں ہوگی۔ حکومت کا خیال ہے کہ کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ مستقبل میں پنشن واجبات کی ترقی کو سست کرنے میں مدد کرے گا۔

رواں مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے پنشن پر 1.014 ٹریلین روپے (3.65 ارب ڈالر) خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو پچھلے سال کے 821 ارب روپے (2.96 ارب ڈالر) سے زیادہ ہے۔ اس میں مسلح افواج کے لیے پنشن واجبات شامل ہیں، جو پچھلے مالی سال کے 563 ارب (2.03 ارب ڈالر ) سے تقریباً 18 فیصد بڑھ کر 662 ارب روپے (2.38 ارب ڈالر) ہو گئے۔

Related Posts