پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں سرکاری اسکول میں خاتون ٹیچر کے شوہر نے متعدد طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد اسکول کو تالا لگا دیا گیا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تھیڑی سانسی کے علاقے میں پیش آیا جہاں گورنمنٹ نان فارمل ایجوکیشن اسکول میں ساجدہ نامی ٹیچر نے محکمہ لٹریسی کے تحت گھر میں اسکول بنایا ہوا تھا۔ ساجدہ کے شوہر عمران نے طالبات سے زیادتی کی۔
رپورٹ کے مطابق ملزم عمران نے اسکول کے اندر ایک کمرے میں کینٹین بنائی ہوئی تھی۔ ملزم نے مختلف حربوں سے کئی سال تک اسکول میں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ملزم نے مختلف طالبات کی ویڈیوز بھی بنائیں، متاثرہ طالبات بلیک میل ہو کر خاموش رہتی تھیں۔
بدھ کے روز ایک بچی نے واقعہ گھر والوں کے سامنے بیان کردیا۔ طالبہ نے کہا کہ ملزم نے اسے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا ہے، اور اسکول میں اس کی دیگر سہیلیوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ بچی کے انکشافات نے والدین کی آنکھیں کھول دیں، جس کے بعد آپس میں رابطے کیے گئے۔
والدین نے آپس میں روابط اور بات چیت کے بعد واقعے کی رپورٹ پولیس کو درج کرادی۔ پولیس نے ملزم عمران کو گرفتار کرلیا اور ملزم کے خلاف 5 مقدمات بھی درج کرلیے ہیں۔ ملزم نے پوچھ گچھ پر جرم کا اعتراف کرلیا۔ متاثرہ طالبات کی عمریں 11 سے 14سال کے درمیان ہیں۔
ترجمان گوجرانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ متعدد طالبات کے ساتھ زیادتی کا ہے، ابتدائی طور پر 5طالبات کی جانب سے رپورٹ کی گئی۔ خدشہ یہ ہے کہ متاثرہ بچیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے اسکول کو تالہ لگا کر بند کردیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








