اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملٹری کورٹ میں پہلے بھی ٹرائل ہوتے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی عدالت میں پہلے بھی مقدمات کی سماعت ہوئی، آئندہ بھی ہوگی۔ فوجی قوانین کے تحت لوگوں کا ٹرائل کیاجاسکتا ہے۔ عمران خان کے خلاف شواہد ملٹری ٹرائل کی طرف جارہے ہیں۔
انٹرویو کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہر گزرتے روز کے ساتھ یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ عمران خان کا ٹرائل وہاں پر ہوگا۔ عمران خان کے متعلق تحقیقات صیغہ راز میں ہیں جن تک میری رسائی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے فوجی اہداف پر احتجاج کیوں کروایا؟
وزیر دفاع نے کہا کہ جس شہر میں احتجاج ہوا، فوج کو ہدف بنایا گیا، یہ بنیادی چیز ہمیں بتاتی ہے کہ اندر سے کچھ افراد ان کو ہدایات دے رہے تھے۔ ان مظاہروں کے متعلق لازمی طور پر عمران خان نے ہدایات جاری کی تھیں۔ اقتدار کھونے کا جو افسوس عمران خان کو تھا، وہی جنرل فیض کو بھی تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید نے آرمی چیف بننے کیلئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ آپ آرمی چیف بنانے کیلئے حمایت کریں تو میں وفاداری کروں گا، جنرل فیض نے اس سلسلے میں کچھ ضمانتیں بھی فراہم کیں۔ ان کی عمران خان کے ساتھ رفاقت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید جب سے گرفتار ہوئے ہیں، وہ اس کے قصے سنا رہے ہوں گے، وہ چاہتے ہوں گے کہ سارا ملبہ کسی اور پر ڈال دیں۔ وہ کہیں گے کہ اگر میں کسی سازش میں شریک بھی تھا تو اس کے مقاصد میری بجائے عمران خان کے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








