کارساز حادثہ کراچی سمیت پورے ملک کو اشکبار کر گیا۔ معروف کالم نگار محمد عرفان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ نتاشا دانش کے گھر والوں نے خود جا کر حادثے میں جاں بحق باپ بیٹی کے لواحقین سے معافی مانگی۔
ملک بھر میں سب سے زیادہ اشاعت کا دعویٰ رکھنے والے اخبار روزنامہ جنگ میں آج شائع ہونے والے اپنے کالم میں محمد عرفان صدیقی نے کہا کہ حادثے کے تقریباً 15 دن بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک رات خاموشی سےاس خاتون (نتاشا) کا شوہر ،اسکی والدہ اور ایک اور شخصیت مرنے والے مظلوم باپ بیٹی کے گھر پہنچ گئے ہیں۔
اپنے کالم میں تجزیہ نگار محمد عرفان صدیقی نے کہا کہ گرفتار خاتون کا نوجوان شوہر مرنے والے کی بیوہ اور بچی کی والدہ کے پیروں میں گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونےلگا ، اس کی والدہ نےبھی اپنی چادر اس بیوہ خاتون کے سامنے بچھا کر اپنی بہو کیلئے معافی کی بھیک مانگی اور کہا کہ جب سے یہ حادثہ ہوا ہے ہمارے گھر میں کسی کو بھی ایک پل کیلئے نیند نہیں آئی۔
کالم نگار عرفان صدیقی نے کہا کہ ان سب نے کہا کہ وہ حادثے کا اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہیں ، وہ اپنی بیگم اور بہو کی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن معافی کے طلب گار ہیں ۔اس موقع ملزمہ کا شوہر یہ بھی بتاتا ہے کہ جب سے ایکسیڈنٹ ہوا ہے اسی دن سے ایک بلیک میلر مافیا ان کے پیچھے لگا ہوا ہے اور ان سے 100 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ مافیا کا کہنا تھا کہ100 کروڑ کے بدلے مرنے والے خاندان سے راضی نامہ کرادوں گا ، جبکہ کوئی بلیک میلر ان سے فیکٹری نام کرانے کے لیے کہتا ہے ، تو کوئی بنگلہ لیکر معافی نامہ کرانے کی بات کرتا ہے، لیکن ہم آپ کے سامنے بیٹھے ہیں آپ ہمیں بتائیں کہ ہم آپ کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ انہوں نے خواہش کے مطابق رقم کی پیشکش بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ معافی مانگنے والوں نے بلیک میلر مافیا سے جان چھڑانے کی درخواست کی۔ مرحوم کی بیوہ اور مرحوم کا بھائی حلف اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بھائی اور بیٹی کی موت کے بدلے ایک روپیہ بھی نہیں چاہیے ہم صرف انصاف چاہتے ہیں ، ہم شاید اس دنیا میں آپ کو اپنی غربت اور طاقت ور لوگوں کے شدید دبائو کے نتیجے میں معاف کردیں لیکن آخر ت میں آپ کا گریبان ضرور پکڑیں گے۔
ہمیں خدشہ ہے کہ جو لوگ آپ سے سو کروڑ جیسی رقمیں طلب کررہے ہیں وہی لوگ ہمیں اور ہمارے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ نے کہا کہ اگر ہم نے آپ سے معاملات طے نہیں کیے تو ہمارے گھر کے اور بھی لوگ اسی طرح کے ایکسیڈنٹ میں مارے جاسکتے ہیں ہم بلیک میلنگ کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکتے۔
محمد عرفان صدیقی کے کالم کے مطابق باہمی گفتگو کے بعد دونوں خاندانوں نے اس اصولی مؤقف پر اتفاق کیا کہ مظلوم خاندان ظالم خاندان کو صلح نامے کے ذریعے معاف کردے گا تاکہ بلیک میلرز سے چھٹکارہ مل سکے اور چند روز بعد میڈیا پربھی یہ معاہدہ سامنے آچکا ہے جس میں معافی نامہ اور صلحہ نامہ دونوں موجود ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








