پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو خبردار کیا ہے کہ اگر لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید نہ کی گئی تو پاکستان کے نیٹ ورک میں بڑے پیمانے پر رکاوٹیں اور مسائل پیدا ہوں گے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگر بقایا جات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیوں کے آپریشن بند کیے گئے تو انٹرنیٹ کی بندش اور نیٹ ورک کی بحالی میں کافی وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے پاس بھی اس کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ ایل ڈی آئی کی پانچ کمپنیاں اپنے واجبات ادا کرنے کو تیار ہیں جبکہ کئی دیگر نے قانونی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ ان کمپنیوں کے لائسنس جولائی اور اگست کے درمیان ختم ہونے والے تھے، تقریباً 15 مقدمات فی الحال عدالت میں زیر التوا ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے تسلیم کیا کہ 2020 میں کمپنیوں کو اپنے واجبات قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم اسی ریلیف میں اس سال توسیع نہیں کی جاسکتی۔
کمیٹی نے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت سے واضح پالیسی ہدایت کا مطالبہ کیاہے۔ کمیٹی کے ارکان نے زور دیا کہ یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ کن کمپنیوں کو کس قیمت پر لائسنس دیا جائے گا ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








