معروف مذہبی اسکالر اور مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے حال ہی میں بھارت چھوڑنے کے بعد پاکستان کے بجائے ملائیشیا میں آباد ہونے کے اپنے فیصلے کے حوالے سے بات کی۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے وضاحت کی کہ پاکستان منتقل ہونے سے ان پر ایجنٹ ہونے کے الزامات لگ سکتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے طور پر ملائیشیا کا انتخاب کیا۔
واضح رہے کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک اس وقت ملائیشیا میں مستقل قیام کئے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہےکہ پاکستان کے حوالے سے ان پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگ سکتا تھا کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے انہوں نے ملائیشیا میں رہنا زیادہ مناسب سمجھا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دورے کے حوالے سے ان پر کوئی پابندی نہیں تھی اور پاکستان کا ویزہ لینے میں بھی کوئی مشکل نہیں تھی لیکن انہوں نے الزامات سے بچنے کیلئے دورہ پاکستان سے اجتناب کیا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ماہ اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں، اس دوران ان کے صاحبزادے بھی ساتھ ہونگے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونیوالے پروگرامز میں شرکت کرینگے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








