ایتھنز: یونان میں پولیس کے بہیمانہ تشدد سے پاکستانی شہری جاں بحق ہوگیا، لاش پولیس ڈپیارٹمنٹ سے ملی۔
38 سالہ پاکستانی محمد کامران آسک ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یونان میں مقیم تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق کامران آسک کو 18 ستمبر کو پراسیکیوٹر کے سامنے لایا گیا تھابعد ازاں اسے 21 ستمبر بروز ہفتہ پولیس اسٹیشن سے ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
کامران آسک کی موت کی وجہ واضح نہیں تاہم متوفی کے قریبی لوگوں کا الزام ہے کہ اسے حراست میں رکھتے ہوئے بے دردی سے مارا گیا۔
سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ کو “غیر متعین” کے طور پر درج کیا گیا ہے، جس میں “پہلے مار پیٹ” اور زیر التواء لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج ہیں، جسم پر خاصی چوٹ کے نشانات دکھائی دیے، جس سے ان حالات کے بارے میں خدشات بڑھے جو اس کی موت کا باعث بنے۔
خاندانی وکیل ماریا سیفٹسو کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر کامران آسک کی موت مار پیٹ کی وجہ سے ہوئی ہے حالانکہ تصدیق کے لیے مزید ٹیسٹ کی ضرورت تھی۔
شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس اسٹیشن پہنچنے سے پہلے کامران آسک زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ہنگامی طبی خدمات کو بلایا گیا لیکن انہوں نے ہسپتال میں داخلے کو غیر ضروری قرار دیا، اس فیصلے پر وکیل نے ان کی چوٹوں کی شدت کی وجہ سے اختلاف کیا۔
اسک کو ابتدائی طور پر 13 ستمبر کو ایک یونانی خاتون کی جانب سے گھریلو تشدد کی شکایت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ زیادہ ہجوم کی وجہ سےپہلے کئی تھانوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ اگرچہ گھریلو تشدد کے الزام میں اس کی عدالت کی سماعت ملتوی کردی گئی تھی لیکن وہ اپنی قانونی حیثیت کی تصدیق کے لیے زیر حراست رہے۔
رہائشی حیثیت کی تصدیق کے بعدکامران آسک کو 17 ستمبر کو رہا کر دیا گیا تاہم موٹر سائیکل یونٹ کے افسران نے شناخت کی جانچ کے لیے روکا اور گرفتاری میں مزاحمت کرنے پر دوبارہ گرفتار کر لیا۔
کامران آصف دوسری بار گرفتاری کی وجوہات واضح نہیں ، اس حوالے سے ان کی وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس رپورٹ میں مقام کے بارے میں اطلاعات مشکوک ہیں، 21 ستمبر کو ان کی موت کی اطلاع ملنے سے پہلے ان کے اہل خانہ اسپتالوں اور پولیس اسٹیشنوں میں ان کی تلاش کر رہے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








