فلسطینی بچوں سے زبردست اظہارِ یکجہتی، بھارتی شاعرہ کا امریکی تنظیم کا ایوارڈ لینے سے انکار

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی شاعرہ
(فوٹو: ایسٹ موجو)

نئی دہلی: بھارتی شاعرہ نے فلسطینی بچوں سے زبردست اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امریکی تنظیم کا ایوارڈ لینے سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اسلحہ سازی اور بچوں کی پرواہ ایک ساتھ جاری نہیں رکھے جاسکتے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی شاعرہ جسینتا کرکیٹا نے غزہ میں بچوں کے قتلِ عام پر آواز اٹھائی ہے۔ جسینتا کرکیٹا کا ایک شاعری کا مجموعہ ایک بھارتی غیر سرکاری تنظیم نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے اپنے روم ٹو ریڈنگ آتھر ایوارڈ 2024 کیلئے منتخب کیا تھا۔

بھارتی شاعرہ جسینتا کرکیٹا نے یو ایس ایڈ کی جانب سے غزہ جنگ میں کردار اور اسلحہ ساز کمپنیوں سے روابط کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا۔ جسینتا کرکیٹا نے کہا کہ مقامی تنظیم جس نے مجھے ایوارڈ کیلئے منتخب کیا، وہ بچوں کی تعلیم کیلئے کام کرتی ہے۔

جسینتا کرکیٹا نے کہا کہ مقامی تنظیم کی فنڈنگ یو ایس ایڈ کرتی ہے جو غزہ میں بچوں کے قتلِ عام کا سبب بننے والی اسلحہ ساز کمپنیوں سے کاروبار بھی کرتی ہے۔ اسلحہ سازی اور بچوں سے محبت ایک ساتھ کیسے جاری رکھے جاسکتے ہیں؟

انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہتھیاروں سے بچوں کی دنیا تباہ کی جارہی ہے۔ بچوں کیلئے کتابوں کی اہمیت ہے لیکن مقبوضہ فلسطین میں تو ہزاروں بچوں کو قتل کردیا گیا ہے اور بڑے ان بچوں کی حفاظت نہیں کرسکے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے باعث 40 ہزار سے زائد شہری شہید ہوگئے ہیں جن میں ہزاروں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے والے اسرائیل نے اب لبنان کا رخ کرلیا ہے۔

Related Posts