وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کا قافلہ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی جاری ہیں۔
نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا قافلہ رات پتھر گڑھ کے مقام پر گزارنے کے بعد اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے جو پرانا موٹروے ٹول پلازہ تبلیغی مرکز پہنچ گیا جب کہ اسلام آباد پولیس کی طرف سے شیلنگ کی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں کشیدگی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور میٹرو بس سروس بھی معطل ہے جس سے شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے وارننگ کے باوجود ڈی چوک پر احتجاج کی کال پر وفاقی دارالحکومت آج دوسرے روز بھی مکمل بند ہے جب کہ جگہ جگہ کنٹینرز اور خاردار تاروں کی باڑ اور دیگر رکاوٹیں قائم ہیں اور موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بری طرح متاثر نظر آتی ہے۔
اسلام آباد میں مظاہرین کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے اٹک خورد میں شاہراہ کو بند کردیا گیا، مسافر اور مال بردارگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جب کہ سڑک کی بندش سے ٹرکوں میں موجود اشیاء کی خرابی کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد جانے والے مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
خواتین اور بچوں سمیت مسافروں نے رات سڑک پرگزاری، لاہور سے باجوڑ میت لے جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے مطابق وفاقی حکومت شرپسندوں سے کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے، مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








