ایران کے حملے کے بعد اسرائیل نے جواب دینے کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں تجسس عروج پر ہے کہ اسرائیل ایران کے اندر کن اہداف پر متوقع طور پر حملے کر سکتا ہے، بعض ذرائع نے اس حوالے سے کئی امکانات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے ایران کے اندر ایسے مقامات کی طرف توجہ دلائی ہے جو ممکنہ طور پراسرائیلی حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
کئی اسرائیلی حکام کی جانب سے گذشتہ چند دنوں کے دوران یہ انکشاف کیا گیا تھا تمام امکانات زیرغور ہیں۔
ایران کی جوہری تنصیبات، تیل کے اسٹیشنز اور خامنہ ای کمپلیکس پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔
اسرائیلی ذرائع نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ ٹارگٹ بینک میں ایران کے اندر اہم اقتصادی نظام جیسے تیل اور گیس کی سہولیات شامل ہوسکتی ہیں۔
اتوار کو اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق متوقع اسرائیلی حملے ایرانی صدارتی کمپلیکس اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے ساتھ ساتھ تہران میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ اہداف اسرائیل میں فیصلہ سازوں کی میز پر موجود کچھ آپشنز کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کی ذرائع نے تصدیق کی ہے۔
خاص طور پر چونکہ تل ابیب طاقت سے کام کرنے سے پہلے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کو ترجیح دیتا ہے۔ چونکہ اسرائیلی ردعمل کے سنگین نتائج کی توقع ہے اور اس کے لیے امریکی تعاون کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








