پرتشدد مظاہرے اور ایئرپورٹ حملہ، پاکستان میں بھارت کی نئی سازش کی وجہ کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

India's new conspiracy against the SCO meeting?

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے تناؤ کا شکار رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذ پر کئی تنازعات سامنے آ چکے ہیں لیکن ایک اور پہلو جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بنتا ہے وہ ہے بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی جس کی وجہ سے پاکستان کو کئی برسوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را (RAW) پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ کراچی میں بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے حملے اور اسلام آباد میں مظاہروں کے پیچھے بھی بھارتی مداخلت کا ذکر ہو رہا ہے۔

بھارتی دہشت گردی کی تاریخ:
بھارت پر الزام ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا رہا ہے اور را (RAW) کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی کئی بڑی کارروائیوں کو بھارتی ایجنسیوں سے جوڑا گیا ہے۔ ان میں سب سے بڑی مثال 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہے، جو لاہور میں ہوا۔ اس حملے نے نہ صرف پاکستانی عوام کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

کراچی میں حالیہ حملے:
کراچی میں اتوار کی رات ایئرپورٹ پر بلوچستان لبریشن آرمی کے حملے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ بی ایل اے ایک علیحدگی پسند گروپ ہے جو بلوچستان کے حقوق کے نام پر ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے کو بھارتی ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے اور یہ حملے بھی بھارتی مداخلت کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں مظاہرے:
اسلام آباد میں جاری حالیہ مظاہروں کے پیچھے بھی بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ را (RAW) پاکستانی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی استحکام کو نقصان پہنچانا ہے تاکہ ملک عالمی فورمز پر کمزور دکھائی دے۔
ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوا تھا، جس سے بڑی سرمایہ کاری کے امکانات ضائع ہو گئے تھے۔ موجودہ حالات میں، ایسے احتجاجات نہ صرف ملک کے اندرونی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

بھارتی مداخلت کی عالمی پہچان:
یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا اس مسئلے پر توجہ دی ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے کون سی طاقتیں سرگرم ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تنازعات اور دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے درمیان موجود کشیدگی نے ہمیشہ سے خطے کو غیر مستحکم کیا ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی را (RAW) پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی پشت پناہی کا الزام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں درکار ہیں۔ امن اور استحکام کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ خطے کو دہشت گردی کے اندھیروں سے نکالا جا سکے۔

Related Posts