پاکستان میں بی ایل اے کے دہشت گرد حملوں کی تاریخ اور مطالبات

تازہ ترین

تازہ ترین

A history of BLA terrorist attacks in Pakistan and its demands

دہشت گرد گروہ بلوچ لبریشن آرمی پہلی بار پاکستان میں 2000 میں ابھر کر سامنے آئی، اگست 2006 میں بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد کالعدم تنظیم نے اپنی ریاست مخالف سرگرمیاں تیز کر دیں۔

2006سے اس گروپ نے پاکستانی سیکورٹی فورسز، شہریوں، پاکستان میں چینی شہریوں اور بلوچستان میں کام کرنے والے پنجاب کے لوگوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔
14 دسمبر 2006 کو بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ضلع کوہلو میں ایک نیم فوجی کیمپ پر حملہ کیا، جس میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو نشانہ بنایا گیا۔

2009: اسکول ٹیچر انور بیگ کو 14 جون کو تعلیم میں بلوچ قوم پرستی کی مخالفت کرنے پر قتل کر دیا۔ اس مہینے کے آخر میں دہشت گردوں نے سوئی میں 19 پولیس افسران کو اغوا کیا، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں
2013: بی ایل اے نے 6 اگست کو مچھ ٹاؤن کے قریب 11 بس مسافروں کے اغوا اور قتل کی ذمہ داری قبول کی۔
2018: 23 نومبر کوبی ایل اے نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا، جس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
2019: گروپ نے 11 مئی کو گوادر میں زاویر پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کو نشانہ بنایا۔
2020: 29 جون کو کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا گیا لیکن سیکورٹی فورسز نے حملے کو ناکام بنا دیا۔
2022: جامعہ کراچی میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
2023: بی ایل اے نے سیکورٹی فورسز کے خلاف 247 حملے کرنے کی اطلاع دی، جس میں پاکستانی فوجیوں میں نمایاں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا۔ ان کی کارروائیوں میں ہائی پروفائل حملے اور خودکش مشن شامل تھے جن کا مقصد فوجی اہلکار اور بنیادی ڈھانچہ تھا۔
2024: اگست میں مربوط حملوں کے ایک سلسلے کے نتیجے میں بلوچستان بھر میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے باہر بی ایل اے کے حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے باہر آنے والے چینی شہری کو مبینہ طور پر دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔

دہشت گرد گروہ کے مطالبات:
بی ایل اے کے مبینہ طور پر حکومت پاکستان سے بہت سے مطالبات ہیں لیکن یہ مطالبات کبھی بھی باضابطہ طور پر ریاست کے سامنے پیش نہیں کیے گئے تاہم گروپ کے رہنما سوشل میڈیا پر یا میڈیا خصوصاً غیر ملکی میڈیا سے بات چیت میں درج ذیل مطالبات کو اجاگر کرتے ہیں۔

وسائل کا کنٹرول:
بی ایل اے کا مطالبہ ہے کہ بلوچ عوام کو صوبے کے قدرتی وسائل پر کنٹرول کا اختیار دیا جائے۔ ان وسائل میں تیل، گیس اور معدنیات شامل تھے۔

خود مختاری:
بی ایل اے پاکستان کے اندر بلوچستان کے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی اور انتظامی خودمختاری چاہتی ہے تاہم بی ایل اے کے اندر کچھ دھڑے خود ارادیت کے خیال کی حمایت کرتے ہیں اور تجویز کرتے ہیں کہ بلوچ عوام کو اپنی سیاسی حیثیت کا تعین کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

فوجی آپریشنز کا خاتمہ:
بی ایل اے بلوچستان میں فوجی آپریشن اور سیکورٹی کریک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔

سیاسی قیدیوں اور لاپتہ افراد کی رہائی:
یہ گروپ ان بلوچ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے جنہیں حراست میں لیا گیا ہے یا لاپتہ کیا گیا ہے۔

Related Posts