چین نے کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بم دھماکے میں دو چینی شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد بیان جاری کردیا ہے۔
چینی سفارت خانے نے اس حملے پر بیان شیئر کیا جس میں اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے عملے کو لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
بیجنگ نے واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا۔
سفارتخانے کے مطابق قافلہ صوبہ سندھ میں ایک پاور پراجیکٹ میں شامل چینی انجینئرز کو لے کر جا رہا تھا۔
حملے کے جواب میں سفارت خانے نے ایک ہنگامی منصوبہ کو فعال کیا، جس میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا اور پاکستانی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ چینی شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کریں۔
حملے کے بعد چینی سفارت خانے نے پاکستان میں اپنے شہریوں کو چوکس رہنے اور قصورواروں کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تحقیقات کو یقینی بنانے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک زبردست دھماکے میں کم از کم تین غیر ملکی شہری ہلاک جبکہ 17 دیگر زخمی ہوئے۔
یہ خودکش حملہ تھا اور حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سے غیر ملکیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا۔دہشت گرد گروپ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








