سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی قید کو اسرائیل فلسطین تنازع پر ان کے موقف سے جوڑنے کا دھماکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔
شبرزیدی نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ 2022 میں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کی بنیادی وجہ فلسطین کے لیے عمران خان کی آواز کی حمایت ہے۔اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
شبرزیدی نے کہا کہ عمران خان کے جانے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے منسلک ہے۔ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ ایران کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا ملک جذباتی بات چیت شروع کرے۔
شبرزیدی کے مطابق حزب اللہ کے مقتول رہنما حسن نصراللہ کی تصویر اب بھی عمران خان کے بیٹے قاسم خان کے کمرے میں لٹکی ہوئی ہے۔اقتصادی ماہر نے مسلم ممالک کو جھوٹا اور بے ایمان قرار دیتے ہوئے ان پر بھی تنقید کی۔
دوسری جانب یہودی مصنف اور ماہر سیاسیات عینور بشیروفا نے ستمبر کے اوائل میں کہا تھا کہ عمران خان پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہودی مصنف نے ٹائمز آف اسرائیل کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں کہا تھا کہ “اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بنیں جو اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








