مشہور بھارتی صنعتکار رتن ٹاٹا کے انتقال کے بعد بھارت میں شانتنو نائیڈو کے نام کے چرچے ہورہے ہیں،30 سالہ شانتنو نائیڈو ٹاٹا ٹرسٹ کے سب سے کم عمر جنرل منیجر ہیں، وہ 86 سالہ بھارتی بزنس ٹائیکون رتن ٹاٹا کے قریبی دوست اور قابل اعتماد معاون بھی تھے، جن کا دو روز قبل انتقال ہو گیا تھا۔
شانتنو کا رتن ٹاٹا کے ساتھ تعلق 2014 میں شروع ہوا جب وہ ٹاٹا ایلکسی میں ڈیزائن انجینئر تھے، ایک دن انہوں نے سڑک کے بیچوں بیچ ایک بے جان کتا دیکھا جس نے انہیں بہت متاثر کیا۔ کتوں سے ان کی محبت نے انہیں آوارہ کتوں کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی تاہم اس منصوبے کے لیے فنڈز جمع کرنے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس موقع پر شانتنو کے والد نے انہیں رتن ٹاٹا کو خط لکھنے کی ترغیب دی۔ ابتدا میں ہچکچاہٹ کا شکارنائیڈو نے آخر کار خط لکھا اور دو ماہ بعد جواب موصول ہوا۔ اس کے فوراً بعد وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ ممبئی میں رتن ٹاٹا سے ملنے گئے۔
جب صنعتکار نے پوچھا کہ وہ اس منصوبے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیںتو دونوں دوستوں نے فوری مالی امداد کی درخواست کرنے پر مزاحمت کی۔ بہر حال رتن ٹاٹا نے بعد میں شانتنو کے منصوبے میں سرمایہ کاری کی جس کو نائیڈو کو “رتن ٹاٹا کی حمایت یافتہ اسٹارٹ اپ” کہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی دوستی گہری ہوتی گئی اور انہوں نے ایک خوبصورت رشتہ استوار کیا۔
2018 کے بعد سے شانتنو نے رتن ٹاٹا کے مینیجر کے طور پر خدمات انجام دیں، ٹاٹا کی رہنمائی میں مختلف ذمہ داریوں اور اقدامات کو نبھایا۔ شانتنو نائیڈو ایک کاروبار کے بھی مالک ہیں جو گڈفیلوز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے کاروبار کا مقصد بزرگوں کو ان کے بعد کے سالوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔ مبینہ طور پر ان کی کمپنی کی مجموعی مالیت 5 کروڑ روپے ہے۔
شانتنو کا تعلق پونے مہاراشٹر سے ہے۔ اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے نائیڈو نے 2014 میں ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔
رتن ٹاٹا کی کمپنیوں میں سے ایک ٹاٹا ایلکسی میں انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کرنے سے انٹرن بننے تک کا سفر ان کے کیریئر کا آغاز تھا۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے کارنیل جانسن گریجویٹ اسکول آف مینجمنٹ سے ایم بی اے کیا، جہاں اس نے مختلف قائدانہ کرداروں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








