مصنوعی ذہانت انسانوں کو کیسے پیچھے چھوڑ دے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت
(فوٹو: بِنگ اے آئی)

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے کوئی نئی چیز بنائی، پہلے پہل تو وہ اس سے ڈرا، پھر اسے آزمایا، اور آخر کار اسے دوست بنا لیا۔

مثال کے طور پر، جب پہیہ ایجاد ہوا تھا تو لوگ گھبرائے کہ یہ کہاں لے جائے گا؟ لیکن پھر ایک دن جب پہیے پر سوار ہو کر بازار تک پہنچے، تب سمجھ میں آیا کہ یہ تو بڑا مفید ہے۔ اب ذرا سوچئے، اگر پہیہ ہمیں شکست دے دیتا تو ہم اب بھی پیدل چل رہے ہوتے! اور اگر ہم دور بین کی ایجاد سے خوفزدہ ہوتے کہ یہ تو پتہ نہیں کیا کیا بڑا کرکے دکھانے والی چیز ہے، تو آج تک ہمیں سیاروں اور ستاروں کا فرق تک پتہ نہ چلتا۔

اب آتے ہیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طرف، تو  آج کل ہر جگہ یہ بات سننے میں آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانوں کو شکست دے گی۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ معاملہ کیسے ہوگا؟ کیا کسی دن، صبح اٹھتے ہی ہمارا موبائل فون کہے گا، “اچھا، آج سے میں ہی تمہارا مالک ہوں، تو ناشتہ خود بناؤ، میں تو چارجنگ پہ جا رہا ہوں!”۔

ذرا تصور کریں کہ ایک دن ہمارا فریج ہمیں حکم دینے لگے، “تمہیں کھانے کی چیزیں ذخیرہ کرنا نہیں آتی، اب میں ہی سپر مارکیٹ جا رہا ہوں۔” یا پھر ہماری گاڑی کہے، “اب میں ڈرائیور ہوں، تم پیچھے بیٹھ کر آرام کرو۔ لیکن خبردار، موسیقی میری پسند کی چلے گی!” اگر ایسا ہو جائے تو یقیناً، انسان کو کسی نئی جدوجہد کا سامنا ہوگا: اپنی ہی مشینوں سے آزادی حاصل کرنا۔

اور وہ دن زیادہ دور نہیں جب روبوٹ نہ صرف انسانوں سے زیادہ سمجھدار ہوں گے، بلکہ ہمارے مزاج کو بھی سمجھیں گے۔ مثال کے طور پر، ہم غصے میں ہوں گے تو ہمارا کمپیوٹر کہے گا، “دیکھو بھئی، تمہاری فائل کرپٹ ہونے والی ہے، بہتر ہے تم پہلے چائے پی لو۔”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے پاس ابھی تک وہ سوجھ بوجھ نہیں ہے جو ہماری دادی اماں کے پاس تھی۔ دادی اماں کی چھٹی حس تھی، وہ چائے میں چینی ڈالے بغیر ہی سمجھ جاتیں کہ چائے میٹھی نہیں بنی۔ لیکن ایک اے آئی چیٹ بوٹ سے پوچھو کہ چائے میٹھی ہے یا نہیں، تو وہ کہے گا، “یہ میرے ڈیٹا بیس میں موجود نہیں۔”

ہاں، اگر کبھی واقعی مصنوعی ذہانت نے انسانوں کو شکست دینے کی کوشش کی، تو ہم بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ ہم اپنے فون کے خلاف احتجاج کریں گے، “چارجنگ پورٹ ہمارا ہے!” اور جب روبوٹس ہماری نوکریاں لے جائیں گے، تو ہم نئی نوکریاں ڈھونڈیں گے جیسے “اے آئی  ٹیوٹر” اور “مشین سائیکالوجسٹ”۔ آخر کار، انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے لیے کچھ نہ کچھ نیا کر لیتا ہے، چاہے وہ فطرت سے ہو یا فیکٹری سے۔

اس لیے مصنوعی ذہانت کے خواب اگرچہ بڑے ہیں، لیکن انسانوں کے دل اور جذبات اس سے کہیں بڑے اور عظیم ہیں۔ اور شاید ایک دن ہم اور ہمارے روبوٹس مل کر اس بات پر ہنس رہے ہوں کہ کیسے ہم نے ایک دوسرے کو شکست دینے کی بات کی تھی، لیکن آخر کار ہم بہترین ٹیم بن گئے۔

Related Posts