سربراہ ایمرجنسی سروسز غزہ کا کہنا ہے کہ جبالیہ کی گلیوں میں انسانی لاشیں بکھری پڑی ہیں، فلسطینی بھوک سے مر رہے ہیں، کتے لاشیں کھانے لگے۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہنگامی خدمات کے سربراہ فارس افانہ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں تباہی کا منظر پیش کررہی ہیں۔ شمالی غزہ میں نسل کشی ہورہی ہے، اسرائیلی فوج زندگی کی نمائندہ ہر شے کو تباہ کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فارس افانہ نے کہا کہ اسرائیل کے پلوں اور سڑکوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا، ہماری گاڑیوں پر براہِ راست فائرنگ ہوئی، پیرامیڈکس متاثرہ علاقوں تک بلا خوف و خطر نہیں پہنچ سکتے۔ ہمیں اور ساتھیوں کو شمالی غزہ میں جانوروں کے بھنبھوڑنے سے متاثرہ لاشیں ملیں۔
فارس افانہ نے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں کی گلیوں میں بھوکے کتے لاشوں کو کھا رہے ہیں۔ لاشوں کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو ایک نوجوان فلسطینی کی لاش کی تصویر دکھائی جس کے جسم کو آوارہ کتوں نے کھالیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 روز سے 3 محلوں میں فضائی اور زمینی حملے ہورہے ہیں اور محصور علاقے میں ہزاروں بچے اور حاملہ خواتین پھنس گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی امور دفتر کے مطابق جبالیہ میں بے گھر افراد کی تعداد 50 پزار کے لگ بھگ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








