ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خودکشی کی بڑی وجوہات میں غربت، بے روزگاری اور خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ شامل ہے۔
کراچی پریس کلب میں حالیہ تقریب سے خطاب کے دوران قومی اور بین الاقوامی ماہرین نفسیات نے کہا کہ پاکستان ایک بڑے ذہنی صحت کے بحران کا سامنا کررہا ہے۔ یہاں نفسیاتی اور شخصی امراض بڑے پیمانے پر عوام کو متاثر کر رہے ہیں۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ خودکشی کا تدارک اور روک تھام کی جائے۔
ٹورنٹو یونیورسٹی کے سینئر ماہر نفسیات ڈاکٹر فاروق نعیم نے کہا کہ خودکشی جذباتی عدم استحکام، غصہ اور روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت میں کمی کے باعث ہوسکتی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ یہ یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، غربت اور ملازمت کا عدم تحفظ بھی اس کی اہم وجوہات ہیں۔
ڈاکٹر فاروق نعیم نے کہا کہ خاندانی نظام کی شکست و ریخت کے علاوہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے بھی ذہنی صحت خراب ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں نفیساتی مسائل پر عموماً کھل کر گفتگو نہیں کی جاتی جس سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کر رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 33فیصد آبادی نفسیاتی عوارض کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ شخصیت کے امراض ملک کی 50فیصد آبادی کو متاثر کر رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ نفسیاتی عوارض کے بحران کو نظر انداز کرنا چھوڑ دیا جائے۔ خاص طور پر شیزوفینیا جیسے مرض کیلئے فوری آگہی اور علاج ضروری ہے۔ کوگنیٹو تھراپی سے خودکشی 30 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔ اس موقعے پر دیگر ماہرین نفسیات نے بھی خطاب کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








