غزہ: اسرائیلی فوج نے جدوجہدِ آزادئ فلسطین کی مسلح تحریک حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو شہید کرنے کا دعویٰ کردیا ہے۔
نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کو غزہ میں جو حملہ کیا گیا، اس میں حماس کے 3 اراکین شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی حکام شہداء کے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں کہ یحییٰ سنوار بھی ان میں شامل ہیں یا نہیں۔
رپورٹ میں عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کو آگہی دے دی گئی ہے کہ غالب امکان ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل کے 2 نشریاتی ادارے بھی یحییٰ سنور کی شہادت کا دعویٰ کرچکے ہیں۔
اے ایف پی کو بھی اسرائیلی سکیورٹی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی فوج ایک جاں بحق شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے یہ تصدیق کرنے کی کوشش میں ہے کہ آیا وہ میت حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہے یا نہیں۔ یحییٰ سنوار کو رواں برس 6اگست کو حماس کی سیاسی سربراہی دی گئی تھی۔
سابق سربراہ حماس کو اسرائیل نے 31 جولائی 2024 کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں اس وقت بم حملے میں شہید کردیا جب وہ ایرانی صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران پہنچے تھے۔ واقعے پر ایرانی حکام نے بھی اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








