وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے باضابطہ طور پر اپیل پر مشتمل خط لکھ دیا۔
امریکی صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے 86 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ بطور وزیراعظم اس معاملے میں مداخلت میری ذمہ داری ہے۔ گزارش ہے کہ آپ اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر عافیہ صدیقی کی سزا معاف کرکے رہائی کا حکم دیں۔
شہباز شریف نے لیٹر میں مزید کہا ہے کہ اس سلسلے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فیملی اور مجھ سمیت لاکھوں پاکستانی آپ کی عنایت کے منتظر ہیں۔ مجھے آپ کی بیرون ملک قید اپنے شہریوں کے لیے جدوجہد سے مکمل طورپر علم ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایف ایم سی کارسویل میں سمتبر 2010 سے قید ہیں اورامریکی جیل میں 16 سال کی قید کاٹ چکی ہیں۔
وزیراعظم نے خط میں کہا کہ اِن برسوں میں پاکستانی آفیشلز عافیہ صدیقی سے کونسلر ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ سب ملاقات کرنے والوں نے عافیہ صدیقی کے علاج کی سہولیات سے متعلق سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کمزور دماغی اور جسمانی صحت پر علاج معالجے کے اثرات ہوئے۔ اِس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ عافیہ صدیقی کہیں اپنی جان ہی نہ لے لیں۔ ڈاکٹر عافیہ کے معاملے کو ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








