اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی پیشگوئی کی ہے اور مسلسل 5سال اوسط مہنگائی سنگل ڈیجیٹ میں رہنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔
اپنی ایک رپورٹ میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی حکومت کے ہدف سےبھی کم رہے گی، مہنگائی کی شرح 9اعشاریہ 5فیصد تک رہنے کی توقع ہے تاہم پاکستان نے اوسط مہنگائی کیلئے ہدف 12فیصد مقرر کیا ہے جو کہ ڈبل ڈیجیٹ ہدف ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے دوران ملک بھر میں اوسط مہنگائی کی شرح 7اعشاریہ 8فیصد تک رہے گی۔ اس سے اگلے مالی سال یعنی 27-2026 کے دوران اوسط مہنگائی کا تخمینہ 6اعشاریہ 5 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اسی طرح آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ مالی سال 28-2027 اور 29-2028 کے دوران بھی اوسط مہنگائی 6اعشاریہ 5فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی ایم ایف کی جانب سے کی گئی یہ پیشگوئیاں درست اور حقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں؟
پیشگوئی سچی ہے؟
بظاہر تو یہ پیشگوئی بالکل سچی اور درست محسوس ہوتی ہے تاہم آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی اور قومی ماہرین معاشیات بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، مالیاتی پالیسی اور عالمی منڈی میں تبدیلیوں کو اہم قرار دیتے ہیں۔ موجودہ اور آئندہ سالوں کے تخمینوں کا یہی معاملہ ہے۔
دراصل آئی ایم ایف کی جانب سے اس قسم کے تخمینے ملک کی معاشی پالیسیوں، ممکنہ مالیاتی اصلاحات، عالمی منڈی کے رجحانات اور توانائی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر مبنی ہوتے ہیں، تو آئی ایم ایف کی پیشگوئی اگر مکمل طور پر سچ نہیں تو مستقبل کے متوقع حالات کی عکاسی ضرور قرار دی جاسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








